الزامات ثابت نہ ہونا ’مایوس کن‘ ہوگا

سپاٹ فکسنگ کے الزام کا سامنا کرنے والے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں پر اگر الزام ثابت نہ ہوا تو یہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سربراہ ہارون لوگارٹ کے لیے ’مایوس کن‘ ہوگا۔
پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور چھ سے گیارہ جنوری کے دوران ایک غیر جانبدار ٹرابیونل اس معاملے کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنائے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہارون لوگارٹ نے کہا کہ ’ہمیں ایک ٹھوس پیغام دینا ہوگا اور یہ اس سب کا حصہ ہے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔
محمد آصف اور محمد عامر پر لارڈز ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز کروانے کا الزام ہے جبکہ سلمان بٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جواریوں سے پیسے کے لین دین میں حصہ لیا۔
ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد ان تینوں کھلاڑیوں کو آئی سی سی نے معطل کر دیا تھا۔ محمد عامر اور سلمان بٹ اس معطلی کے خلاف کی جانے والی اپیل ہار گئے تھے جبکہ محمد آصف نے یہ اپیل سنوائی سے قبل ہی واپس لے لی تھی۔
ان اپیلوں کی سماعت مائیکل بیلوف نے کی تھی اور وہی اس ٹربیونل کے سربراہ بھی ہیں جو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ اس ٹربیونل کے دیگر ارکان میں جنوبی افریقہ کے جسٹس البی ساش اور کینیا کے شرد راؤ شامل ہیں۔
ہارون لوگارٹ نے کہا کہ ’میں ان تینوں ججوں سے مطمئن ہوں۔ ہم نے وہ ثبوت جمع کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے جو عدالت کے سامنے الزامات ثابت کرنے کے لیے درکار تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہمارے لوگوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے کہ ان کا مقدمہ مضبوط ہو اور وہ عدالت میں ثابت بھی ہو سکے‘۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سربراہ نے کہا کہ اگر یہ تینوں کھلاڑی قصوروار پائے گئے تو ان سے سختی سے مگر انصاف کے تقاضوں کے تحت نمٹا جائے گا اور انہیں کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں اپیل کی اجازت ہوگی۔
ہارون لوگارٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کرکٹ کے کھیل سے رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے دیگر ارکان کے اقدامات سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ حالیہ مہینوں اور ہفتوں کے دوران جو اقدامات کیے گئے ہیں اور جو ٹاسک فورس بنائی گئی ہے وہ بہترین کام رہی ہے‘۔















