انگلینڈ:عمدہ بولنگ کے بعد پراعتماد بیٹنگ

ایشز سیریز کے پانچویں ٹیسٹ کے دوسر ے روز کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں تین وکٹ کے نقصان پر ایک سو سڑسٹھ رن بنا لیے ہیں۔
اس سے قبل انگلش بولروں نے انتہائی منظم انداز میں بولنگ کرتے آسٹریلوی ٹیم کو پہلی اننگز میں دو سو اسی کے مجموعی سکور پر آؤٹ کر دیا۔
<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://news.bbc.co.uk/sport/hi/english/static/cricket/statistics/scorecards/2011/01/85865/html/scorecard.stm" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> دوسرے روز کا کھیل تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/01/110103_sydney_day2_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
انگلینڈ کی جانب سے الیسٹر کک نے نصف سنچری سکور کی ہے اور جب کھیل ختم ہوا تو وہ نائٹ واچ مین جیمز اینڈرسن کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔
انگلینڈ نے اپنی اننگز کا آغاز دھواں دھار انداز میں کیا اور کپتان اینڈریو سٹراس نے آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ساٹھ رنز سکور کیے۔ انگلینڈ کی پہلی وکٹ اٹھانوے کے مجموعی سکور پر گری۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کپتان اینڈریو سٹراس تھے۔

ایک رنز کے بعد ہی جوناتھن ٹراٹ بھی آؤٹ ہو گئے۔ تیسری انگلش وکٹ 165 کے مجموعی سکور پر کیون پیٹرسن کی گری جنہیں مچل جانسن نے آؤٹ کیا۔
اس سے پہلے انگلینڈ نے دوسرے روز بھی عمدہ بولنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور تواتر سے وکٹیں لیتے رہے۔ انگلینڈ کے فاسٹ بولر جیمز اینڈرسن نے چار اور بریسنن نے تین وکٹیں حاصل کیں۔
ایک مرحلے پر ایک سو اناسی رنز پر آسٹریلیا کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں لیکن فاسٹ بولر مچل جانسن اور ہلفنہاؤس نے شاندار چوہتر رنز کی پارٹنرشپ بنا کر آسٹریلیا کے سکور کو کچھ بہتر کر دیا۔ مچل جانسن نے آسٹریلوی اننگز کی واحد نصف سنچری سکور کی۔
انگلش ٹیم اگرچہ میلبرن ٹیسٹ جیت کر ایشز ٹرافی پر اپنا قبضہ قائم رکھنے میں کامیاب رہی ہے تاہم اگر وہ چوبیس برس میں آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے والی پہلی انگلش ٹیم بننا چاہتی ہے تو اسے سڈنی ٹیسٹ کم از کم برابر کرنا ہوگا۔
ایشز سیریز میں اب تک انگلینڈ نے دو میچوں میں آسٹریلیا کو اننگز کی شکست سے دوچار کیا ، آسٹریلیا نے ایک میچ جیتا جبکہ سیریز کا پہلا میچ بےنتیجہ رہا تھا۔















