انگلینڈ جیت کا مستحق ہے: واٹسن

مائیکل کلارک
،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کی ٹیم مائیکل کلارک کے آؤٹ ہونے پر خوشی منا رہی ہے
وقت اشاعت

ایشز سیریز کے پانچویں ٹیسٹ کے چوتھے روز کھیل کے اختتام پر آسٹریلیا نے انگلینڈ کی پہلی اننگز کے 644 کے جواب میں سات وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز بنائے ہیں۔ اس طرح مہمان ٹیم ایشز سیریز تین ایک سے جیتنے کے بالکل قریب ہے۔

آسٹریلیا کے کھلاڑی شین واٹسن نے اپنی ٹیم کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انگلینڈ نے آسٹریلوی ٹیم کو ہر میدان پیچھے چھوڑ دیا ہے۔‘

<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://news.bbc.co.uk/sport/hi/english/static/cricket/statistics/scorecards/2011/01/85865/html/scorecard.stm" platform="highweb"/></link>

سڈنی ٹیسٹ کے آخری روز آسٹریلیا اپنی دوسری اننگز 213 رنز سات کھلاڑی آؤٹ پر شروع کرے گا، اس طرح وہ ابھی بھی انگلینڈ کی پہلی اننگز کے ٹوٹل سے 151 رنز پیچھے ہے۔

اوپننگ بیٹسمین واٹسن نے کہا کہ ’اس گیم میں بہت کچھ کرنا تھا لیکن انگلینڈ نے ہمیں دوبارہ ہر شعبے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔‘

الیسٹر کک نے ایک سو نواسی رنز سکور کیے ہیں
،تصویر کا کیپشنالیسٹر کک نے ایک سو نواسی رنز سکور کیے ہیں

انگلینڈ کے وکٹ کیپر میٹ پرائر نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے اچھا دن تھا۔ انہوں نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں نہ صرف سنچری (118) سکور کی بلکہ آسٹریلیا کی دوسری اننگز میں چار کیچ بھی پکڑے۔

میچ کے چوتھے روز کے آغاز میں پال کولنگوڈ نے انکشاف کیا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کو خیر آْباد کہہ رہے ہیں۔

34 سالہ کولنگوڈ نے 68 ٹیسٹ میچوں میں 4259 رنز بنائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اس پوری سیریز میں بے مثال کرکٹ کھیلی ہے اور ان پر بہت دباؤ رکھا ہے۔‘

تیسرے روز کے کھیل کے اختتام پر پرائیر نے چون رنز بنائے تھے اور ان کے ساتھ کریز پر بریسنن موجود تھے جنہوں نے کوئی رن نہیں بنایا تھا۔ میچ کے چوتھے روز دونوں نے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 102 رنز بنائے اور اس طرح انگلینڈ نے آسٹریلیا میں میزبان ٹیم کے خلاف اپنا سب سے بڑا سکور بنایا۔

اس کے بعد گریم سوان نے 26 گیندوں میں تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 36 رنز بنائے۔

سٹراس نے دھواں دھار انداز میں انگلش اننگز شروع کی
،تصویر کا کیپشنسٹراس نے دھواں دھار انداز میں انگلش اننگز شروع کی

آسٹریلیا کی طرف سے رہی سہی کثر واٹسن کے رن آؤٹ کی وجہ سے پوری ہو گئی۔ اینڈرسن، بریسنن اور ٹریملیٹ نے دو دو وکٹ حاصل کیے۔

میچ کے تیسرے روز انگلینڈ کی جانب سے الیسٹر کُک نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے ایک سو نواسی رنز بنائے ۔ اس سکور کے دوران انہوں نے سولہ چوکے لگائے۔ انہیں واٹسن نے آؤٹ کیا۔

ائین بیل نے بھی شاندان بلے بازی کی اور اپنی سنچری مکمل کی۔ وہ ایک سو پندرہ رن بنا کر جانسن کا شکار بنے۔ انہوں نے تیرہ چوکے لگائے۔

انگلینڈ نے اپنی اننگز کا آغاز دھواں دھار انداز میں کیا تھا اور کپتان اینڈریو سٹراؤس نے آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ساٹھ رنز سکور کیے تھے۔ انگلینڈ کی پہلی وکٹ اٹھانوے کے مجموعی سکور پر گری۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کپتان اینڈریو سٹراؤس تھے۔

اس وکٹ کے ایک رن کے بعد ہی جوناتھن ٹراٹ بھی آؤٹ ہو گئے۔ تیسری وکٹ 165 کے مجموعی سکور پر کیون پیٹرسن کی گری جنہیں مِچل جانسن نے آؤٹ کیا۔