کسی منصوبے کا حصہ نہیں تھا: آصف

کھلاڑیوں کے باہمی تعلقات میں پڑتی دراڑیں صاف دکھائی دینے لگی ہیں
،تصویر کا کیپشنکھلاڑیوں کے باہمی تعلقات میں پڑتی دراڑیں صاف دکھائی دینے لگی ہیں
وقت اشاعت

سپاٹ فکسنگ الزامات کا سامنا کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف اگرچہ یہ مانتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف پیش کیے جانے والے ثبوت مضبوط ہیں لیکن ان کا اصرار ہے کہ وہ دانستہ طور پر نو بال کروانے کے کسی منصوبے کا حصہ نہیں تھے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا ضابطۂ اخلاق کمیشن دوہا میں چھ جنوری سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے الزام کی جانچ کر رہا ہے۔

محمد آصف نے دوہا میں سماعت کے دوران کمیشن کو بتایا ہے کہ انہوں نے نو بال صرف اس لیے کی کیونکہ ان کے کپتان سلمان بٹ نے انہیں تیز گیند کروانے کو کہا تھا۔

پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف کا ماننا ہے کہ انہیں دیگر دونوں کھلاڑیوں کے مقابلے میں شک کا فائدہ دیے جانے کا زیادہ امکان ہے کیونکہ ان کے ساتھی کسی بھی گھپلے میں ان سے کہیں زیادہ ملوث تھے۔

سلمان بٹ اور محمد عامر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں یہ نہیں پتا کہ مظہر مجید لارڈز ٹیسٹ میں نو بولز کے حوالے سے درست اندازے لگانے میں کیسے کامیاب ہوا۔

اور اب جبکہ آئی سی سی کا فیصلہ آنے کو ہے کھلاڑیوں کے باہمی تعلقات میں پڑتی دراڑیں صاف دکھائی دینے لگی ہیں۔

سماعت کے دوران تینوں کھلاڑیوں نے کرپشن کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ محمد آصف تینوں پاکستانی کھلاڑیوں میں سے آخری کھلاڑی تھے جن پر پیر کو آئی سی سی کے وکلاء کے پینل نے جرح کی تھی۔

اس کیس کے اختتامی دلائل پیر کی دوپہر شروع ہوئے تھے اور منگل کی صبح ان دلائل کا خاتمہ ہوگا۔

مائیکل بیلوف کی سربراہی میں بنایا جانے والا تین رکنی کمیشن منگل کو ہی اپنے فیصلے کا اعلان کر سکتا ہے تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ اس عمل میں ایک دن کی تاخیر ہو۔

تاہم اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ مائیکل بیلوف قصوروار ثابت ہونے کی صورت میں کھلاڑیوں کے لیے کسی سزا کا اعلان بھی کریں کیونکہ کھلاڑیوں کے وکلاء ٹربیونل سے ایک مدلل فیصلہ چاہتے ہیں جس کے لیے زیادہ وقت درکار ہوگا۔

پیر کو یہ بات بھی سامنے آئی کہ آئی سی سی نے سماعت کے دوران اوول ٹیسٹ میں گڑبڑ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی۔ برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ جس نے وہ ثبوت فراہم کیے جن کی بنیاد پر آئی سی سی نے اپنا مقدمہ تیار کیا تھا، اوول ٹیسٹ کے نتائج پر اثر انداز ہونے والے واقعات کی ریکارڈنگ کا بھی دعوٰی کیا تھا۔

لیکن لارڈز کے برعکس اس ٹیسٹ میں کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کی پیشنگوئیاں درست ثابت نہ ہو سکی تھیں۔