بھارت کا ورلڈ کپ سکواڈ

وقت اشاعت

بھارت نے انیس فروری سے شروع ہونے والے کرکٹ کے عالمی کپ کے لیے اپنے جس پندرہ رکنی سکواڈ کا اعلان کیا ہے اس میں سچن تندولکر سمیت چار ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو اس وقت زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں ہیں۔ یہاں پر بھارتی سکواڈ میں شامل تمام کرکٹرز کے پروفائل دیے گئے ہیں۔

مہندر سنگھ دھونی

مہندر سنگھ دھونی بھارتی ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر ہیں۔ ان کا شمار بھارتی کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔

انہی کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے سنہ دو ہزار سات میں منعقد ہونے والا پہلا آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا اور پہلی بار ٹیسٹ اور ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پر پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

دھونی نے تیئس دسمبر سنہ دو ہزار چار کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ون ڈے، دو دسمبر سنہ دو ہزار پانچ کو سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ اور یکم دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

انہیں سنہ 2008 اور سنہ 2009 میں آئی سی سی نے سال کا بہترین ون ڈے کھلاڑی قرار دیا۔ انہیں ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے کم میچوں میں پانچ ہزار رن بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

دھونی انڈین پریمئیر لیگ کی ٹیم چنائی سپر کنگز کے کپتان بھی ہیں کو سنہ دو ہزار دس کی انڈین پریمئیر لیگ ایڈیشن کی فاتح تھی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ٹیسٹ کرکٹ بلے بازوں کی درجہ بندی میں مہندر سنگھ دھونی پینتیسویں نمبر پر ہیں جبکہ ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا نمبر چار ہے۔

سچن تندولکر

سچن تندولکر کرکٹ کی دنیا کا ایک ایسا نام ہے جس کے بغیر کرکٹ کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہیں آئی سی سی نے 2010 کا بہترین کرکٹر بھی قرار دیا ہے۔

دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے تندولکر نے پندرہ نومبر سنہ انیس سو نواسی کو پاکستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ، اٹھارہ دسمبر سنہ انیس سو نواسی کو پاکستان ہی کے خلاف پہلا ون ڈے اور یکم دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

سچن تندولکرگزشتہ اکیس سال سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے ہیں اور انہیں دنیا میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور ایک روزہ میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ ان دونوں قسم کی کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے کے علاوہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں ڈبل سنچری بنانے والے بھی واحد کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

تندولکر ایک روزہ میچوں میں ساڑھے سترہ ہزار اور ٹیسٹ کرکٹ میں ساڑھے چودہ ہزار سے زائد رن بنا چکے ہیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں پچاس سنچریاں بنانے والے واحد کرکٹر ہیں اور انہوں نے اب تک ٹیسٹ اور ون ڈے میں مجموعی طور پر ستانوے سینچریاں بنائی ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بلے بازوں کی ٹیسٹ کرکٹ درجہ بندی میں سچن تندولکر پہلے نمبر ہیں جبکہ ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا نمبر 14 ہے۔

وریندر سہواگ

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے وریندر سہواگ کا شمار جارحانہ انداز میں کرکٹ کھیلنے والوں میں ہوتا ہے۔ وہ بھارتی ٹیم کے اوپنر ہیں۔

سہواگ نے تین نومبر سنہ دو ہزار ایک کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ، یکم اپریل سنہ انیس سو ننانوے کو پاکستان کے خلاف پہلا ون ڈے اور یکم دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

سہواگ ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری بنانے والے پہلے بھارتی بلے باز ہیں۔ انہوں نے تین دسبمر سنہ دو ہزار نو کو سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین ٹرپل سنچری بنائی۔ سہواگ نے یہ کارنامہ صرف دو سو اٹھہترگیندوں کا سامنا کرتے ہوئے انجام دیا۔

سہواگ دنیائے کرکٹ کے چوتھے کھلاڑی ہیں جنہوں نے دو ٹرپل سنچریاں بنائی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ون ڈے کرکٹ میں صرف ساٹھ گیندوں پر سنچری بنا چکے ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ٹیسٹ کرکٹ کی درجہ بندی میں سہواگ چھٹے نمبر پر ہیں جبکہ ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا نمبرگیارہواں ہے۔

گوتھم گھمبیر

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے گوتھم گھمبیر بھارتی ٹیم کے افتتاحی بلے باز ہیں۔

انہوں نے تین نومبر سنہ دو ہزار چار کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹیسٹ، گیارہ اپریل سنہ دو ہزار تین کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ون ڈے اور تیرہ ستمبر سنہ دو ہزار سات کو سکاٹ لینڈ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

گوتھم گھمبیر واحد بھارتی اور دنیائے کرکٹ کے چوتھے ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے مسلسل پانچ ٹیسٹ میچوں میں پانچ سینچریاں بنائی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مسلسل چار ٹیسٹ سیریز میں تین سو سے زیادہ رنز بنانے والے واحد بھارتی کھلاڑی ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ٹیسٹ کرکٹ کی درجہ بندی میں گوتھم گھمبیر پندرہویں نمبر پر ہیں جبکہ ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا نمبر دسواں ہے۔

یوراج سنگھ

بائیں ہاتھ سے مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرنے والے انتیس سالہ یوراج سنگھ بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائین میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

یوراج نے سولہ اکتوبر سنہ دو ہزار تین کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ، تین اکتوبر سنہ دو ہزار کو کینیا کے خلاف پہلا ون ڈے اور تیرہ ستمبر سنہ دو ہزار سات کو سکاٹ لینڈ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

یوراج سنگھ نے پہلے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے ایک میچ میں انگلینڈ کے بالر سٹورٹ براڈ کی چھ گیندوں پر چھ چھکے مارنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ اسی میچ میں انہوں نے صرف بارہ گیندوں پر نصف سنچری بنائی تھی جو بین الاقوامی کرکٹ کا ریکارڈ ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بلے بازوں کی ٹیسٹ کرکٹ کی درجہ بندی میں یوراج سنگھ اکسٹھویں نمبر پر ہیں جبکہ ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا نمبر بائیسواں ہے۔

ویرات کوہلی

چوبیس سالہ ویرات کوہلی دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بلے باز ہیں۔

انہوں نے اٹھارہ اگست سنہ دو ہزار آٹھ کو بھارت کی جانب سے سری لنکا کے خلاف پہلا ون ڈے اور بارہ جون سنہ دو ہزار دس کو زمبابوے کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

وہ سب سے کم ایک روزہ میچوں میں ایک ہزار رن مکمل کرنے والے بھارتی کرکٹر ہیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ اپنے چوبیسویں میچ میں سرانجام دیا تھا۔

بھارتی ٹیم نے کوہلی کی قیادت میں سنہ دو ہزار آٹھ کے دوران ملائشیا میں منعقد ہونے والے انیس سال سے کم عمر کے کھلاڑیوں کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا پانچواں نمبر ہے۔

سریش رائنا

چوبیس سالہ سریش رائنا بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز ہیں اور جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں۔ اُن کا شمار بھارتی ٹیم کے بہترین فیلڈرز میں بھی ہوتا ہے۔

رائنا جولائی سنہ دو ہزار پانچ سے بھارت کی ون ڈے ٹیم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے تیس جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو سری لنکا کے خلاف پہلا ون ڈے کھیلا تھا۔

تاہم ان کے ٹیسٹ کیرئر کا آغاز پانچ برس بعد ہوا جب چھبیس جولائی سنہ دو ہزار دس کو انہوں نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں حصہ لیا۔ وہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے سے قبل اٹھانوے ون ڈے کھیل چکے تھے جو ایک ریکارڈ ہے۔

رائنا نے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ یکم دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا۔ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سنچری بنانے والے واحد بھارتی ہیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ پچیس جون سنہ دو ہزار آٹھ کو ہانگ کانگ کے خلاف سرانجام دیا تھا۔

وہ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اور نیوزی لینڈ کے برینڈن میککلم کے بعد تینوں قسم کی کرکٹ میں سنچری بنانے والے تیسرے کھلاڑی ہیں۔

یوسف پٹھان

اٹھائیس سالہ یوسف پٹھان کا شمار کرکٹ کے نامور آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے یوسف پٹھان اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں۔

پٹھان نے دس جون سنہ دو ہزار آٹھ کو پاکستان کے خلاف پہلا ون ڈے اور چوبیس ستمبر سنہ دو ہزار سات کو پاکستان ہی کے خلاف اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

یوسف انڈین پریمئیر لیگ میں راجھستان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہیں۔ انہوں نےتیرہ مارچ سنہ دو ہزار دس کو انڈین پریمئیر لیگ کے ایک میچ میں ممبئی انڈینز کے خلاف سینتیس گیندوں پر سینچری سکور کی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا بیاسیواں نمبر ہے۔

ہربھجن سنگھ

تیس سالہ ہربھجن سنگھ بھارتی ٹیم کے اہم آف سپن بالر ہیں۔

ہربھجن نے پچیس مارچ سنہ انیس سو اٹھانوے کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹیسٹ، سترہ اپریل سنہ انیس سو اٹھاسی کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ون ڈے اور یکم دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

ہربھجن سنگھ کا شمار بھارت کے سب سے زیادہ کامیاب آف سپن بالرز میں ہوتا ہے۔ ہربھجن نے سنہ دو ہزار ایک میں آسٹریلیا کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سریز میں بتیس وکٹیں حاصل کیں جس میں کسی بھی بھارتی بالر کی جانب سے کی جانے والی پہلی ہیٹ ٹرک بھی شامل ہے۔

ہربھجن کا کیرئیر تنازعات کا شکار رہا۔ ہربھجن سنگھ کو سنہ دو ہزار آٹھ میں اپنی ٹیم کے کھلاڑی سری سانتھ کو تھپڑ مارنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے پورے سیزن سے معطل کر دیا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بالرز کی ٹیسٹ کرکٹ درجہ بندی میں ہربھجن آٹھویں نمبر پر ہیں جبکہ ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا نمبر 22 ہے۔

ظہیر خان

بتیس سالہ فاسٹ بالر ظہیر خان بھارتی پیس اٹیک کے اہم رکن ہیں اور گزشتہ گیارہ برس سے انڈیا کے لیے کھیل رہے ہیں۔

ظہیر خان نے دس نومبر سنہ دو ہزار کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ، تین اکتوبر سنہ دو ہزار کو کینیا کے خلاف پہلا ون ڈے اور یکم دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔

وہ بائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے بالرز میں بھارت کے سب سے کامیاب اور دنیا کے تیسرے کامیاب ترین بالر ہیں۔

2003 کے ورلڈ کپ میں ظہیر نے بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لی تھیں۔ انہیں سنہ 2008 میں وزڈن نے سال کا بہترین کرکٹ قرار دیا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بالرز کی ٹیسٹ کرکٹ درجہ بندی میں ظہیر خان پانچویں نمبر پر ہیں جبکہ ایک روزہ درجہ بندی میں ان کا نمبر 27 ہے۔

مناف پٹیل

سنہ انیس سو تراسی میں بھارتی ریاست گجرات میں جنم لینے والے میڈیم فاسٹ بالر مناف موسٰی پٹیل کی بھارتی کرکٹ میں آمد بہت ہنگامہ خیز تھی۔ بھارتی سلیکٹر کرن مورے نے ایک نیٹ پریکٹس کے دوران بولنگ کرتے دیکھ کر مناف کو بھارتی بالرز کے لیے بنائی گئی اکیڈمی میں بجھوایا۔ اور وہاں تربیت کے دوران ہی مناف کو بھارت کا تیز ترین بالر کہا جانے لگا۔

مناف نے بھارت کے لیے اپنے ٹیسٹ اور ایک روزہ کیرئر کا آغاز سنہ 2006 میں کیا۔ مارچ 2006 میں انگلینڈ کے خلاف موہالی ٹیسٹ ان کے کیرئر کا اولین ٹیسٹ تھا جبکہ انہوں نے اپنا پہلا ایک روزہ میچ تین اپریل کو انگلینڈ کے خلاف ہی کھیلا۔

تاہم ایک ہنگامہ خیز آغاز کے باوجود آنے والے چار برس میں مناف میدان میں کم اور اپنی چوٹوں کے علاج میں زیادہ مصروف رہے اور اب حال ہی میں ایک بار پھر وہ بھارتی ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بالرز کی ایک روزہ میچوں کی درجہ بندی میں مناف پٹیل اکتالیسویں نمبر پر ہیں۔

پروین کمار

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ سے تعلق رکھنے والے میڈیم فاسٹ بالر پروین کمار کو وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ رنز کی رفتار کم کرنے کے لیے کارآمد بالر سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ وہ نچلے نمبرز پر دھواں دھار بلے بازی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

چوبیس سالہ پروین کمار نے اپنے ایک روزہ کیرئر کا آغاز اٹھارہ نومبر 2007 کو ناگ پور میں پاکستان کے خلاف میچ میں کیا۔ چند ماہ بعد انہیں آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی بھارتی ٹیم میں شامل کیا گیا اور یکم فروری 2008 کو میلبرن میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف اپنا ٹی ٹوئنٹی کیرئر شروع کیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بالرز کی ایک روزہ میچوں کی درجہ بندی میں پروین کمار کا دسواں نمبر ہے۔

اشیش نہرا

بھارتی پیس اٹیک کے سینئر رکن اشیش نہرا بھارتی سکواڈ کے ان چند ارکان میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایک روزہ میچوں میں سو وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

وہ بھارت کی جانب سے کسی بھی تیز بالر کی ایک روزہ میچ میں بہترین بالنگ کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ یہ کارنامہ انہوں نے 2003 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں تیئیس رنز کے عوض چھ وکٹیں لے کر انجام دیا تھا۔

بائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے بتیس سالہ نہرا نے اپنے ٹیسٹ کیرئر کا آغاز کولمبو میں فروری انیس سو ننانوے میں سری لنکا کے خلاف میچ میں کیا۔ تاہم انہیں اپنا پہلا ایک روزہ میچ کھیلنے کا موقع قریباً سوا دو سال بعد جون 2001 میں بھارت کے دورۂ زمبابوے کے دوران ملا۔ نہرا نے نو دسمبر 2009 کو سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنا ٹی ٹوئنٹی کیرئر شروع کیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بالرز کی ایک روزہ میچوں کی درجہ بندی میں اشیش نہرا کا بتیسواں نمبر ہے۔

روی چندن ایشون

بھارتی ریاست تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے آف سپنر ایشون سنہ 2010 کے آغاز میں بھارتی ٹیم کا حصہ بنے۔

انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے بھارتی ایک روزہ سکواڈ میں تو شامل کیا گیا لیکن وہ اس سیریز کا کوئی میچ نہیں کھیلے۔

چوبیس سالہ ایشون نے اپنے ایک روزہ کیرئر کا آغاز جون 2010 میں زمبابوے میں کھیلی گئی سہ فریقی سیریز میں سری لنکا کے خلاف میچ میں کیا۔ اسی ٹور کے دوران زمبابوے کے خلاف بارہ جون کو ہوئے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ایشون کو اپنا ٹی ٹوئنٹی کیرئر شروع کرنے کا موقع ملا۔

2010 میں منعقدہ ٹی ٹوئنٹی چیمپئز لیگ میں ایشون کی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت ان کی ٹیم چنئی سپر کنگز یہ مقابلہ جیتنے میں کامیاب رہی اور ایشون اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بالرز کی ایک روزہ میچوں کی درجہ بندی میں ایشون کا نمبر 91 ہے۔

پیوش چاؤلہ

چوبیس سالہ لیگ سپنر پیوش چاؤلہ کو بھارتی کرکٹ میں انیل کمبلے کا جانشین سمجھا جاتا ہے۔ چاؤلہ نے بھارت کی قومی ٹیم میں جگہ تو انیل کمبلے کے کیرئر کے دوران ہی بنا لی تھی لیکن انہیں باقاعدگی سے کھیلنے کا موقع کمبلے کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی ملا۔

پیوش چاؤلہ نے بھارت کے لیے اپنے ٹیسٹ کیرئر کا آغاز نو مارچ دو ہزار چھ کو موہالی میں انگلینڈ کے خلاف صرف سترہ برس کی عمر میں کیا لیکن انہیں اپنا دوسرا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے قریباً ایک برس انتظار کرنا پڑا۔

اسی انتظار کے دوران انہیں بارہ مئی 2007 کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف ایک روزہ میچ کھلایا گیا۔ تاہم سنہ 2008 کے بعد سے چاؤلہ بھارت کی قومی ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ ٹیم سے دور ہیں۔

چاؤلہ کا ٹی ٹوئنٹی کیرئر 2010 میں شروع ہوا اور ان کا پہلا میچ دو مئی کو جنوبی افریقہ کے خلاف تھا۔