ویسٹ انڈیز کا ورلڈ کپ سکواڈ

وقت اشاعت

ویسٹ انڈیز نے انیس فروری سے برصغیر میں شروع ہونے والے کرکٹ کے عالمی کپ کے لیے اپنے جس پندرہ رکنی سکواڈ کا اعلان کیا ہے اس میں زیادہ تر نوجوان کھلاڑی شامل ہیں۔ ویسٹ انڈیز کو سنہ 1975 اور سنہ 1979 کے ورلڈ کپ مقابلے جیتنے کا اعزاز حاصل ہے تاہم اس کے بعد ویسٹ انڈین ٹیم کی ان مقابلوں کی یادیں زیادہ خوشگوار نہیں۔ یہاں پر ویسٹ انڈین سکواڈ میں شامل تمام کرکٹرز کا تعارف دیا گیا ہے۔

ڈیرن سیمی

اٹھائیس سالہ آل راؤنڈر ڈیرن سیمی ویسٹ انڈیز کے جزیرے سینٹ لوسیا سے تعلق رکھنے والے پہلے کھلاڑی ہیں جو بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

سال دو ہزار گیارہ کے عالمی کپ میں وہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک روزہ کرکٹ کیریئر کا آغاز آٹھ جولائی سنہ دو ہزار چار کو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا۔ تاہم انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع تین سال بعد سات جون دو ہزار سات کو انگلینڈ کے خلاف ملا۔ ٹیسٹ کیرئر کے پہلے میچ کی دوسری اننگز میں انھوں نے چھیاسٹھ رنز دے کر سات وکٹیں حاصل کی تھیں۔

انھوں نے اٹھائیس جون دو ہزار سات کو انگلینڈ کے خلاف پہلی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا تھا۔

ڈیرن سیمی ڈاؤن آرڈر میں ایک موثر بلے باز ثابت ہوتے ہیں۔ ٹیسٹ میچ میں ان کی آئی سی سی کی بالنگ کی درجہ بندی میں سینتالیس اور بیٹنگ میں ایک سو سات ہے جبکہ ایک روزہ میچوں میں بالنگ میں تیس اور بیٹنگ میں چورانوے کی پوزیشن پر ہیں۔

ایڈریان باراتھ

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اکیس سالہ ایڈریان باراتھ نے چھبیس نومبر سال دو ہزار نو میں آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا جبکہ ایک سال بعد مئی سنہ دو ہزار دس میں زمبابوے کے خلاف پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل اور اسی سال اٹھائیس فروری کو زمبابوے کے خلاف ہی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا۔

یہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کرنے والے سب سے کم عمر بیٹسمین ہیں۔ انہوں نے اپنے پہلے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں بھی نصف سنچری سکور کی تھی تاہم اس کے بعد ٹیم میں اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ سکے۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ اور ایک روزہ میچوں میں بیٹنگ کی کٹیگری میں بالترتیب اکیانوے اور دو سو بارہویں پوزیشن پر ہیں جبکہ ٹیسٹ میں بیٹنگ درجہ بندی میں وہ اکیانوے پوزیشن پر ہیں۔

کارلٹن بواغ

انتیس سالہ وکٹ کیپر اور دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے کارلٹن بواغ نے انتیس مئی سنہ دو ہزار تین کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ اور اسی سال سترہ مئی کو آسٹریلیا کے خلاف ہی پہلا ایک روزہ میچ کھیلا تھا۔

چھبیس دسمبر سنہ دو ہزار آٹھ کو انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا۔

انھوں نے آخری ایک روزہ میچ چودہ نومبر دو سال دو ہزار آٹھ کو پاکستان کے خلاف کھیلا تھا اور اس کے بعد سے وہ ایک روزہ میچ نہیں کھیل سکے ہیں۔

کارلٹن بواغ وکٹ کیپنگ کرنے کے علاوہ لیگ سپن بالنگ بھی کرتے ہیں۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں بیٹنگ کے شعبے میں ایک سو تینتیس نمبر پر ہیں۔

سلیمان بین

فائل فوٹو

بائیں ہاتھ سے سلو آرتھوڈوکس سٹائل سے بالنگ کرنے والے سلیمان بین نے دس اپریل سنہ دو ہزار آٹھ میں سری لنکا کے خلاف کیرئر کا پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ اور اسی سال بائیس مئی کو سری لنکا کے خلاف ہی پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

انہوں نے اپنے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیرئر کا آغاز بیس جون سنہ دو ہزار آٹھ میں آسٹریلیا کے خلاف کیا تھا۔

سلیمان کا قد چھ فٹ اور سات انچ ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے قدر آور کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی انھی کے پاس ہے۔

انھوں نے دسمبر سال دو ہزار نو میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پہلی بار پانچ وکٹیں حاصل کیں تھیں۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں بالنگ میں تیس اور بیٹنگ میں ایک سو دو کی پوزیشن پر ہیں۔ ایک روزہ انٹرنیشنل رینکنگ میں وہ بالنگ میں بہّتر اور بیٹنگ میں دو سو ستر کی پوزیشن پر فائز ہیں۔

ڈوین براوو

اٹھائیس سالہ آل راؤنڈر ڈوین براوو ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں کپتانی بھی کر چکے ہیں۔

انھوں نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز اٹھارہ اپریل سال دو ہزار چار میں انگلینڈ کے خلاف کیا تھا جبکہ اسی سال جولائی میں انگلینڈ کے خلاف ہی پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز سولہ فروری سال دو ہزار چھ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا۔

میڈیم فاسٹ بالر اور دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے براؤو نے سال دو ہزار نو کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کی جانب سے دس وکٹیں لے کر سب سے نمایاں بالر رہے جبکہ اس ٹورنامنٹ میں ایک سو پینتالیس اعشاریہ دو آٹھ کے سٹرائیک ریٹ سے ایک سو چون رنز بنائے۔

براؤو ویسٹ انڈیز کے تیرہویں بالر ہیں جنھوں نے ایک روزہ انٹرنیشنل میں سو وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ کی بالنگ کیٹگری میں پچسیویں جبکہ بیٹنگ میں انچاسویں پوزیشن پر ہیں۔ ایک روزہ انٹرنیشنل میں بیٹنگ اور بالنگ میں بالترتیب بیاسی اور ستائیسویں پوزیشن پر ہیں۔

ڈیرن براوو

ڈیرن براوو

ویسٹ انڈیز کے بائیس سالہ وکٹ کیپر اور بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے ڈیرن براؤو نے چھبیس جون سالہ دو ہزار نو میں بھارت کے حلاف پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ جبکہ ایک سال بعد پندرہ نومبر سال دو ہزار دس میں سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل انہوں نے اٹھائیس فروری سنہ دو ہزار دس کو زمبابوے کے خلاف کھیلا تھا۔ انھوں نے اب تک اپنے ہر ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں نصف سنچری سکور کی ہے۔

وہ ویسٹ انڈین ٹیم کے رکن ڈوین براؤو کے سوتیلے بھائی ہیں۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ ریکنگ میں بیٹنگ میں سڑسٹھ جبکہ ایک روزہ میں ایک سو ساٹھویں پوزیشن پر ہیں۔

شیو نرائن چندرپال

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے سینتیس سالہ بلے باز شیو نرائن چندرپال تقریباً ایک عشرے سے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انھوں اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کیرئر کا آغاز سترہ مارچ سنہ انیس سو چورانوے کو انگلینڈ کے خلاف کیا تھا اور اسی سال سترہ اکتوبر کو بھارت کے خلاف انہوں نے اپنا پہلا ایک روزہ میچ کھیلا تھا۔

چندرپال نے سولہ فروری سنہ دو ہزار چھ کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا۔

ایک منفرد بیٹنگ سٹائل رکھنے والے چندر پال ٹیل اینڈرز کے ہمراہ اہم شراکتیں قائم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

وہ آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں آٹھویں جبکہ بالنگ میں ننانوے نمبر پر ہیں۔ ایک روزہ انٹرنیشنل رینکنگ کی بیٹنگ کٹیگری میں بھی وہ آٹھویں اور بالنگ میں دو سو انتالسیویں پوزیشن پر فائز ہیں۔

کرس گیل

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بتیس سالہ کرس گیل جارحانہ بلے بازی کے لیے مشہور ہیں۔

انھوں نے اپنے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز گیارہ دسمبر سنہ انیس سو ننانوے میں بھارت کے خلاف کیا تھا جب کہ ایک سال بعد سولہ مارچ سال دو ہزار کو زمبابوے کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز سولہ فروری دو ہزار چھ کو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا۔

کرس گیل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سنچری سکور کرنے والے چند بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔

گیل ایک اچھے آف سپنر بھی ہیں اورماضی میں ویسٹ انڈیز ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ وہ ایک اچھے کپتان بھی ثابت ہوئے تھے اور ان کی قیادت میں ویسٹ انڈین ٹیم نے انگلینڈ میں ایک روزہ سیریز اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میں فتح حاصل کی تھی۔

ان کی ٹیسٹ میچ میں بیٹنگ کی رینکنگ اٹھارہ اور بالنگ میں اڑتالیس جبکہ ایک روزہ انٹرنیشل میں بیٹنگ میں چھ اور بالنگ میں ایک سو چار ہے۔

نکتا ملر

فائل فوٹو،

انتیس سالہ سپنر نکتا ملرِ نے ایک روزہ انٹرنیشنل کیرئر کا آغاز چار جولائی سنہ دو ہزار آٹھ میں آسٹریلیا کے خلاف کیا تھا جبکہ ایک سال بعد نو جولائی دو ہزار نو کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

انہوں نے اپنے ٹی ٹوئنٹی کیرئر کا آغاز دو اگست سنہ دو ہزار نو کو بنگلہ دیش کے خلاف کیا تھا۔

ان کی انٹرنیشنل میچ پہلی وکٹ آسٹریلوی بلے باز مائیکل کلارک کی تھی۔

انہوں نے سنہ دو ہزار نو کی چیمپیئنز ٹرافی میں سب سے زیادہ سکور کیا تھا جبکہ بالنگ کے شعبے میں ان کا اکانومی ریٹ صرف تین اعشاریہ تین چار تھا۔

اسی وقت آئی سی سی کی ایک روزہ رینکنگ میں بالنگ میں چھیاسٹھ اور بیٹنگ میں ایک سو انچاسویں پوزیشن پر ہیں۔

کیرن پولارڈ

چوبیس سالہ آل راؤنڈر کیرن پولارڈ نے دس اپریل سال دو ہزار سات میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل کھیلا تھا جبکہ بیس جون دو ہزار آٹھ میں آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز کیا تھا۔

کیرن ابھی تک ٹیسٹ سکواڈ میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے ہیں۔

سال دو ہزار نو میں چیمپئنز لیگ میں اپنی جارحانہ بلے بازی کی وجہ شہرت حاصل کرنے والے کیرن ابھی تک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں میں قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے ہیں۔

میڈیم فاسٹ بالر اور دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے کیرن پولارڈ کی اس وقت آئی سی سی کی ایک روزہ رینکنگ میں بیٹنگ میں چھیاسی اور بالنگ میں سترہویں پوزیشن ہے۔

روی رام پال

ستائیس سالہ میڈیم فاسٹ بالر روی رام پال نے اپنا پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ بائیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو زمبابوے کے خلاف کھیلا تھا۔

روی ڈیبو کے بعد ویسٹ انڈین ایک روزہ ٹیم کے تو مستقل رکن رہے تاہم انہیں اپنا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے چھ برس انتظار کرنا پڑا اور یہ موقع انہیں چھبیس نومبر دو ہزار نو کو آسٹریلیا کے خلاف ملا۔

اسی دوران انھوں نے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ اٹھائیس جون دو ہزار سات کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ بالرز رینکنگ میں وہ ستانوے جبکہ بیٹنگ میں ایک سو اکتالیسیویں پوزیشن پر ہیں۔

ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں بالنگ میں ان کا چوالیسواں اور بیٹنگ میں دو سو ساٹھواں نمبر ہے۔

کیمار روچ

تئیس سالہ فاسٹ بالر کیمار روچ نے ایک روزہ انٹرنیشنل کیرئر کا آغاز ایک غیر معروف ٹیم برمودا کے خلاف بیس اگست دو ہزار آٹھ کو کیا جبکہ ایک سال بعد جولائی دو ہزار نو میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

ٹیسٹ کیرئر کے آغاز سے قبل ہی بیس جون دو ہزار آٹھ کوں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا۔

کیمار روچ فاسٹ نے اپنے کیرئر کے تیسرے ایک روزہ میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف پانچ وکٹیں حاصل کیں تھیں جبکہ سال دو ہزار دس میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مین آف میچ کے حق دار ٹھہرے۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ بالرز رینکنگ میں وہ انتیس جبکہ بیٹنگ میں ایک سو سڑسٹھویں پوزیشن پر ہیں جبکہ ایک روزہ میچوں کی ان کی رینکنگ میں اکیاسی اور بیٹنگ میں دو سو پچانوے ہے۔

آندرے رسل

تئیس سالہ فاسٹ بالر آندرے رسل کو بین الاقوامی کرکٹ کیریئر شروع کیے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے گزشتہ سال پندرہ نومبر کو سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا اور تاحال یہی ان کا واحد ٹیسٹ میچ ہے۔

آندرے نے اب تک ایک روزہ انٹرنیشنل میچ اور ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں کھیلا ہے۔

تاہم انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچری سکور کر رکھی ہے۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ ریکنگ میں بالنگ میں ایک سو گیارہ اور بیٹنگ میں ایک سو تیراسی کی پوزیشن پر فائز ہیں۔

رام نریش سروان

اکتیس سالہ رام نریش سروان دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں۔

انھوں نے اٹھارہ مئی سنہ دو ہزار کو پاکستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا جبکہ اسی سال بیس جولائی کو انگلینڈ کے خلاف اپنے ایک روزہ کرکٹ کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ وہ اس دورے میں عمدہ بیٹنگ کی بدولت مقبول ہوئے تھے اور بعد میں بھی انہوں نے اپنی بہترین پرفارمنس کو جاری رکھا اور ویسٹ انڈیز کے ایک روزہ اور ٹیسٹ سکواڈ میں اپنی جگہ مستقل کی۔

گیارہ ستمبر دو ہزار سات کو جنوبی افریقہ کے خلاف انہوں نے پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا۔

دو ہزار سات میں جب مایہ ناز بلے باز برائن لارا ریٹائر ہوئے تو ان کی جگہ رام نریش سروان کا نام کپتان کے طور پر لیا گیا۔

ڈیوون سمتھ

تیس سالہ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز ڈیوون سمتھ نے دس اپریل سال دو ہزار تین کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا بین الاقوامی ٹیسٹ میچ کھیلا تھا اور اسی سال سترہ مئی کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے انٹرنیشل کیرئر کا آغاز کیا۔ جبکہ چھ سال بعد تیس ستمبر دو ہزار نو بھارت کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشل کھیلا۔

اگرچہ ڈیوون سمتھ نے دو ہزار تین میں پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا تاہم جولائی سال دو ہزار چار سے جنوری دو ہزار سات تک ٹیم کی جانب سے نہیں کھیلے۔

ڈیوون سمتھ ابھی بھی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔

اس وقت آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں بیٹنگ میں ان کی پوزیشن اکہتر ہے جبکہ ایک روزہ میچوں میں ایک سو اکتالیسویں پوزیشن پر ہیں۔