نیوزی لینڈ ورلڈ کپ سکواڈ
ڈینیئل ویٹوری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بتیس سالہ ڈینئل ویٹوری کا شمار نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ ویٹوری نے چھ فروری سنہ انیس سو ستانوے کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ، پچیس مارچ سنہ انیس سو ستانوے کو سری لنکا کے خلاف پہلا ون ڈے اور بارہ ستمبر سنہ انیس سو ستانوے کو کینیا کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
ڈینئل ویٹوری نےصرف اٹھارہ سال کی عمر میں ٹیسٹ میچ کھیل کر اپنے ملک کی جانب سے سب سے کم عمر میں ٹیسٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ویٹوری نیوزی لینڈ کی جانب سے ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل والے بالر ہیں۔ ویٹوری کا شمار اُن آٹھ کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ٹیسٹ میں تین ہزار رنز اور تین سو وکٹیں حاصل کی ہیں۔
ویٹوری نے سنہ دو ہزار چار میں بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں میں دو سو چوبیس رنز دے کر بیس وکٹیں حاصل کیں۔ اِسی طرح انہوں نے مارچ سنہ دو ہزار میں آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹیسٹ میں ایک سو انچاس رنز دے کر بارہ وکٹیں حاصل کیں۔
جیمز فرینکلن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تیس سالہ جیمز فرینکلن کا شمار نیوزی لینڈ کے آل راونڈرز میں ہوتا ہے۔ فرینکلن نے آٹھ مارچ سنہ دو ہزار گیارہ کو پاکستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ، دو جنوری سنہ دو ہزار ایک کو زمبابوے کے خلاف پہلا ون ڈے اور سولہ فروری سنہ دو ہزار چھ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
برینڈن میککلم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تیس سالہ برینڈن مکلم کا شمار نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپراور اوپنگ بلے باز میں ہوتا ہے۔ برینڈن مکلم کرکٹ کی دنیا میں اپنے تیز بیٹنگ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ برینڈن مکلم نے دس مارچ سنہ دو ہزار چار ہزار کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ، سترہ جنوری سنہ دو ہزار دو کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے اور سترہ فروری سنہ دو ہزار پانچ کو آسٹریلیا ہی کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
کائل ملز

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بتیس سالہ کائل ملز کا شمار نیوزی لینڈ کے بالرز میں ہوتا ہے۔ کائل ملز نے دس جون سنہ دو ہزار چار میں انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ، پندرہ اپریل سنہ دو ہزار ایک کو پاکستان کے خلاف پہلا ون ڈے اور سترہ فروری سنہ دو ہزار پانچ کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایک روزہ درجہ بندی میں کائل ملز سترہ نمبر پر ہیں۔
جیکب اورم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بتیس سالہ جیکب اورم کا شمار نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ اورم نے بارہ دسمبر سنہ دو ہزار دو کو بھارت کے خلاف پہلا ٹیسٹ، چار جنوری سنہ دو ہزار ایک کو زمبابوے کے خلاف پہلا ون ڈے اور اکیس اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
اورم نے سنہ دو ہزار تین کے عالمی کپ میں میں اکیس اعشاریہ صفر سات کی اوسط سے چودہ وکٹیں حاصل کیں اور ایک سو پینسٹھ رنز بنائے۔ انہوں نے سنہ دو ہزارسات کے عالمی کپ میں تینتیس رنز کی اوسط سے دس کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جیکب اورم نے سنہ دو ہزار سات میں آسٹریلیا کے خلاف اکہتر گیندوں پر سینچری سکور کی۔ اورم نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میں ایک سو انیس رنز بنائے۔
سکاٹ سٹائرس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چھتیس سالہ سکاٹ سٹائرس کا شمار نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ سکاٹ سٹائرس نے اٹھائیس جولائی سنہ دو ہزار دو کو ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ، پانچ نومبر سنہ انیس سو ننانوے کو بھارت کے خلا پہلا ون ڈے اور سترہ فروری سنہ دو ہزار پانچ کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
سٹائرس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میں سینچری سکور کی۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ میچ میں پچیس رنز دے کرچھ وکٹیں حاصل کیں۔
جیمی ہاؤ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تیس سالہ جمی ہاؤ کا شمار نیوزی لینڈ کے بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ جمی ہاؤ نے نو مارچ سنہ دو ہزار چھ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ، اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار پانچ کو سری لنکا کے خلاف پہلا ون ڈے اور تیئس نومبر سنہ دو ہزار سات کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
راس ٹیلر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ستائیس سالہ راس ٹیلرکا شمار نیوزی لینڈ کے اہم بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ راس ٹیلر تیز کرکٹ کھیلنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ راس ٹیلر نے آٹھ نومبر سنہ دو ہزار سات کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ، یکم مارچ سنہ دو ہزار چھ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ون ڈے اور بائیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو سری لنکا کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
نیتھن میککلم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تیس سالہ نیتھن مکلم کا شمار نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ نیتھن مکلم برینڈن مکلم کے بڑے بھائی ہیں۔ نیتھن مکلم نے آٹھ ستمبر سنہ دو ہزار نو کو سری لنکا کے خلاف پہلا ون ڈے اور انیس ستمبر سنہ دو ہزات سات کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔ نیتھن مکلم نے ابھی تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا ہے۔
جیسی رائیڈر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ستائیس سالہ جیسی رائیڈر کا شمار نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈرز میں ہوتاہے۔ جیسی رائیڈر نے سترہ اکتوبر سنہ دو ہزار آٹھ کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ، نو فروری سنہ دو ہزار آٹھ کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ون ڈے اور پانچ فروری سنہ دو ہزار آٹھ کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
ٹم سودی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تئیس سالہ ٹم سودی کا شمار نیوزی لینڈ کے بالرز میں ہوتا ہے۔ دائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے ٹم سودی نے بائیس مارچ سنہ دو ہزار آٹھ کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ، پندرہ جون دو ہزار آٹھ کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ون ڈے اور پانچ فروری سنہ دو ہزار آٹھ کو انگلینڈ ہی کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔ ٹم سودی نے سنہ دو ہزار آٹھ کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران سترہ وکٹیں حاصل کیں۔ سودی نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ستتر رنز بنائے۔
کین ولیئم سن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اکیس سالہ کین ولیمسن کا شمار نیوزی لینڈ کے بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ کین ولیمسن نے چار نومبر سنہ دو ہزار دس کو بھارت کے خلاف پہلا ٹیسٹ اور دس اگست سنہ دو ہزار دس کو بھارت ہی کے خلاف پہلا ون ڈے کھیلا۔
مارٹن گپٹل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چوبیس سالہ مارٹن گپٹل کا شمار نیوزی لینڈ کے بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ مارٹن گپٹل نے اٹھارہ مارچ سنہ دو ہزار نو کو بھارت کے خلاف پہلا ٹیسٹ، دس جنوری سنہ دو ہزار نو ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ون ڈے اور پندرہ فروری سنہ دو ہزار نو کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔
ہامش بینیٹ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چوبیس سالہ ہامش بینٹ کا شمار نیوزی لینڈ کے بالرز میں ہوتا ہے۔ ہامش بینٹ نے چار نومبر سنہ دو ہزار دس کو بھارت کے خلاف پہلا ٹیسٹ اور چودہ اکتوبر سنہ دو ہزار دس کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ون ڈے میچ کھیلا۔ ہامش بینٹ نے ابھی تک کوئی ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں کھیلا۔
لیؤک وڈکاک
انتیس سالہ لیوک ووڈ کاک کا شمار نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپرز میں ہوتا ہے۔ لیوک ووڈ کاک نے آٹھ دسمبر سنہ دو ہزار دس کو پاکستان کے خلاف اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا۔ لیوک ووڈ کاک نے ابھی تک ون ڈے اور ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز نہیں کیا ہے۔















