’آج ایک بہت اچھا دن تھا‘

میں پاور پلے میں پہلے بھی بولنگ کرتا رہا ہوں:عمران
،تصویر کا کیپشنمیں پاور پلے میں پہلے بھی بولنگ کرتا رہا ہوں:عمران
وقت اشاعت

نئی دلّی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ورلڈ کپ کے گروپ بی کا میچ جنوبی افریقی لیگ سپنر عمران طاہر کے لیے ہر لحاظ سے یادگار ثابت ہوا ہے۔

یہ پاکستانی نژاد سپنر کا پہلا بین الاقوامی میچ تھا جس میں انہوں نے چار وکٹیں حاصل کر کے اپنے انتخاب کو درست کر دکھایا۔

لاہور میں پیدا ہونے والے لیگ بریک بالر عمران طاہر نے نوے کی دہائی میں پاکستان میں جونیئر لیول سے اپنے کرکٹ کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان انڈر نائٹین اور پاکستان اے کی جانب سے بھی ملک کی نمائندگی کی تاہم وہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے تھے۔

بعدازاں انہوں نے ایک جنوبی افریقی خاتون سے شادی کرنے کے بعد جنوبی افریقہ میں رہائش اختیار کر لی تھی اور انہیں رواں برس ہی جنوبی افریقہ کی نمائندگی کا اہل قرار دیا گیا تھا۔

کرکٹ ویب سائٹ کرکٹ انفو کے مطابق اپنے ڈیبو میچ میں عمدہ کارکردگی کے بعد عمران طاہر کا کہنا تھا کہ ’میں تو جیسے ساتویں آسمان پر ہوں۔ میں خدا کا شکرگزار ہوں اور ہر کسی نے میری حوصلہ افزائی کی‘۔

انہوں نے کہا کہ پاور پلے میں جب آپ گیند کرتے ہیں تو سب سے اہم آپ کی رفتار ہوتی ہے۔ ’میں پاور پلے میں پہلے بھی بولنگ کرتا رہا ہوں۔ گریم مجھ پر بہت بھروسہ کرتا ہے اور میں نے دوسرے سپیل میں اچھی گیند کی‘۔

عمران طاہر کا کہنا تھا کہ ’ کبھی آپ کا دن برا ہوتا ہے تو کبھی اچھا۔ آج ایک بہت اچھا دن تھا‘۔

عمران کا یہ اچھا دن اس وقت کچھ متاثر ہوا جب اننگز کے دوران انہیں امپائر نے پچ کے مخصوص حصے پر دوڑنے پر دو بار تنبیہ کی۔ اس بارے میں عمران کا کہنا تھا کہ ’میں وکٹوں سے دور رہ کر بولنگ کرنے میں آسانی محسوس نہیں کرتا لیکن میں اس پر کام کر رہا ہوں‘۔