دھونی امیدوں کو دباؤ نہ سمجھیں:کپل دیو

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کپل دیو کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی ٹیم چاہتی ہے کہ ورلڈ کپ میں اس کی کارکردگی صحیح رہے تو کپتان دھونی کو ٹیم سے وابستہ کی جانے والی امیدوں کو دباؤ نہیں سمجھنا چاہیے۔
اٹھائیس برس قبل ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کے کپتان نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’کئی جانب سے ان پر دباؤ ہوگا اور اس دباؤ کو ختم کرنے میں دھونی کا کردار کلیدی ہوگا‘۔
انہوں نے کہا کہ جب میچ بھارت میں کھیلے جا رہے ہوتے ہیں تو حالات بہت مختلف ہوتے ہیں۔
کپل دیو کا کہنا تھا کہ ’ٹیم بہت سے لوگوں سے ملتی ہے اور ان پر میڈیا، ان کے اپنے اہلِ خانہ اور شائقین کا بہت دباؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کی توجہ بٹنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اسی وقت کپتان کھلاڑیوں کی ہمت بڑھانے اور اکٹھا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے‘۔
کپل دیو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ورلڈ کپ جیسے طویل ٹورنامنٹ میں صحیح وقت پر اپنی بہترین کارکردگی دکھانا بھی بہت اہم ہے۔’یہ ایک بڑا اور طویل ٹورنامنٹ ہے۔ اس کے آخری پندرہ دن بہت اہم ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ اس عرصے میں ٹیمیں کیسا کھیلتی ہیں اور اپنی کارکردگی میں نکھار لاتی ہیں‘۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سابق بھارتی کپتان نے کہا کہ اگرچہ مہندر دھونی ایک ٹھنڈے دماغ والے کپتان ہیں ’لیکن بھارتی ٹیم کو دیکھتے ہوئے دھونی کو اپنے دھیمے مزاج کو بدلتے ہوئے میدان میں کچھ جارحانہ انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔ مجھے بطور کھلاڑی اس کا ٹھنڈا دماغ پسند ہے لیکن میں اسے ٹھنڈے مراج کا کپتان نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہمارے ملک اور ہمارے نظام میں آپ کو مزید جارحانہ انداز اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ورلڈ کپ میں توجہ بٹانے والی بہت سی چیزیں ہیں اور اگر آپ کھلاڑیوں کی توجہ مقصد پر مرکوز رکھنے میں کامیاب رہیں تو یہ بھی ایک جیت ہے۔ اسے (دھونی کو) ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہیے لیکن اتنا ٹھنڈا مزاج بھی نہ ہو کہ چیزیں ہاتھ سے نکلنے لگیں‘۔
اس سوال پر کہ آج تک کسی میزبان ملک نے اپنی سرزمین پر ورلڈ کپ نہیں جیتا تو اس بار کیا تاریخ اپنے آپ کو دوہرائے گی، کپیل دیو نے کہا کہ ’ میں یہ سب نہیں مانتا۔ اپنے گھر میں کھیلتے ہوئے بہت دباؤ ہوتا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی رکاوٹ ہے۔ آپ صرف جا کر اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور اگر آپ ایک اچھی ٹیم ہیں تو یقیناً آپ جیتیں گے‘۔
ان کے مطابق ’میرا دل کہتا ہے کہ انڈیا جیتے گا لیکن دماغ کہتا ہے کہ اور بھی ٹیمیں ہیں۔ مجھے جنوبی افریقہ اور سری لنکا سے بھی بہت امیدیں ہیں‘۔















