اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے: وقار

پاکستانی ٹیم کا کوارٹرفائنل میں پہنچنا متوقع تھا: وقار یونس
،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم کا کوارٹرفائنل میں پہنچنا متوقع تھا: وقار یونس
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پالیکلے
  • وقت اشاعت

عالمی کرکٹ کپ کے پہلے راؤنڈ میں پاکستان کی مسلسل دو مرتبہ شکست کے بعد اس بار ناک آؤٹ مرحلے تک ٹیم کی رسائی کو کوچ وقار یونس ایک خوشگوار لمحے سے تعبیر کرتے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف اسی بات پر خوش ہوجانا کہ پچھلے عالمی کپ میں ٹیم دوسرے مرحلے میں نہیں پہنچی تھی اور اب کوارٹرفائنل میں پہنچ گئی ہے، کافی نہیں ہے کیونکہ اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے۔

دو ہزار تین کے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم پہلے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔ اس وقت ٹیم کے کپتان وقاریونس تھے۔ چار سال بعد انضمام الحق کی قیادت میں بھی پاکستانی ٹیم کو پہلے راؤنڈ سے ہی وطن واپسی اختیار کرنی پڑی تھی۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کا کوارٹرفائنل میں پہنچنا متوقع تھا۔

کوارٹرفائنل سے قبل پاکستان کو اپنے آخری گروپ میچ میں آسٹریلیا کا سامنا کرنا ہے جس کے بارے میں وقاریونس کا کہنا ہے کہ یہ میچ اس ٹیم کے خلاف ہے جو عالمی کپ کے گزشتہ تین مقابلوں میں کوئی میچ نہیں ہاری ہے اور اس میچ میں کامیابی کی صورت میں پاکستانی ٹیم دوسری ٹیموں پر نفسیاتی دباؤ قائم کرسکےگی۔

انہوں نے کہا کہ اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کی صورت میں پاکستانی ٹیم دوسرے گروپ کی نمبر چار ٹیم سے کھیلے گی جس کا مورال اتنا زیادہ بلند نہیں ہوگا۔ تاہم بحیثیت کوچ وہ اس بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے لیے جیت ضروری ہے جس سے تسلسل برقرار رہتا ہے۔

وقاریونس نے کہا کہ وہ ابھی یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ کوارٹر فائنل میں پاکستانی ٹیم کس سے کھیلے گی ۔اگر پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو ہرادیتی ہے تو پھراسے فکر نہیں کرنی چاہیے کہ کوارٹرفائنل میں اس کا مقابلہ کس سے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ بیٹسمین پورے پچاس اوورز کھیل کر ایک اچھا سکور کریں تاکہ بولرز اس کا دفاع کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ انہیں ٹیم کی بولنگ پر بھروسہ ہے کہ وہ ایک اچھے سکور کا دفاع کرسکتی ہے۔

شیعب اختر اب نوجوان نہیں رہے اور انھیں دیکھ بھال کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کوچ وقار یونس
،تصویر کا کیپشنشیعب اختر اب نوجوان نہیں رہے اور انھیں دیکھ بھال کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کوچ وقار یونس

وقاریونس نے شعیب اختر کو زمبابوے کے خلاف میچ نہ کھلانے کے بارے میں کہا کہ شعیب اختر اب نوجوان نہیں رہے ہیں انہیں دیکھ بھال کرکے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ میچ میں انہوں نے اچھی بولنگ نہیں کی تھی لہذا وہاب ریاض کو موقع دیا گیا جنہوں نے اچھی بولنگ کی۔

وقاریونس نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ پاکستانی ٹیم گیارہ بارہ کھلاڑیوں کو ہی موقع دے رہی ہے اور ریزرو کھلاڑی اس انداز سے میدان میں نہیں اتارے گئے ہیں جیسا ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ جب ٹیم جیت رہی ہو تو پھر وننگ کامبی نیشن کو تبدیل کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن جب ٹیم ہارتی ہے تو پھر آپ تبدیلی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کے بعد ایسا ہی ہوا۔ اسد شفیق اور وہاب ریاض ٹیم میں شامل کیے گئے اور اسد شفیق نے بہت ہی عمدہ اننگز کھیلی۔

وقاریونس نے عمرگل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جب وہ خراب بولنگ کرتے ہیں اور ان پر تنقید ہوتی ہے وہ ایک مختلف بولر کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔سری لنکا کے خلاف ایک موقع پر انہوں نے اچھی لیکن پھر خراب بولنگ بھی کی جس کے بعد انہوں نے نیٹ میں بہت محنت کی۔