جیت باب وولمر کے لئے:انضمام

جیت کی صورت میں باب وولمر کو نہ بھولیں: انضمام الحق
،تصویر کا کیپشنجیت کی صورت میں باب وولمر کو نہ بھولیں: انضمام الحق
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولمبو
  • وقت اشاعت

آج اٹھارہ مارچ ہے۔یہ تاریخ چار سال قبل ورلڈ کپ ہی کے دوران آئی تھی اور پاکستانی کرکٹ کو ہلاکر چلی گئی تھی۔

اس دن پاکستانیوں کا آئرلینڈ کے خلاف شکست پر شدید غصہ کوچ باب وولمرکی اچانک موت پر غم میں بدل گیا تھا۔

باب وولمر میچ کی اگلی صبح اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے اور اس کے بعد اس موت کو صدمے کا نتیجہ قرار دیتے دیتے اچانک قتل میں بدل دیا گیا تھا۔

جمیکن پولیس کمشنر کے بیانات اور تجزیوں کی روشنی میں ذرائع ابلاغ ہر روز موت کی وجہ بدل رہے تھے اور پاکستانی ٹیم جیسے باب وولمر کی موت کی ذمہ دار ہو اسے جزائر غرب الہند چھوڑنے سے منع کردیا گیا تھا اور تمام کھلاڑی وطن واپسی کے لیے ترس رہے تھے ان کی حالت سیلاب یا زلزلے کے متاثرین کی طرح معلوم ہوتی تھی جو مشکل گھڑی سے نکلنے کے لیے مدد کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

اس ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق تھے۔ اس واقعے کو چار سال گزر چکے ہیں لیکن انضمام الحق اپنے کوچ کو اب بھی یاد کرکے افسردہ ہوجاتے ہیں۔

’ کپتان اور کوچ کے درمیان جو ہم آہنگی ہونی چاہئے وہ ہم دونوں میں تھی ہم نے تین سال اس ورلڈ کپ کے لیے سخت محنت کی تھی کہ جیتیں گے بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا حالانکہ اس عرصے میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی بہت اچھی رہی تھی۔‘

باب وولمر کوچ کیسے تھے؟ اس سوال پر انضمام الحق کہنے لگے’ میں نے اپنی زندگی میں ایسا پروفیشنل شخص نہیں دیکھا۔انہیں پتہ ہوتا تھا کہ کس کھلاڑی کو کس طرح سمجھانا ہے اور کس طرح سکھانا ہے۔ ان کی موجودگی میں میرا کام خاصا آسان ہوگیا تھا اور وہ کوشش کرتے تھے کہ کپتان کی حیثیت سے مجھ پر غیرضروری دباؤ نہ رہے اس پریشر کو انہوں نے بانٹ رکھا تھا۔‘

انضمام الحق کہتے ہیں ’ آج ہر دوسرا کوچ لیپ ٹاپ کی مدد حاصل کر رہا ہے تو اس کی تعریف ہوتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ کوچنگ میں اگر کسی نے سب سے پہلے لیپ ٹاپ استعمال کرکے اس کی مدد سے کھلاڑیوں کی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کی اور انہیں اس بارے میں آگاہ کیا وہ باب وولمر تھے حالانکہ جب انہوں نے ایسا کیا تو ان پر بہت زیادہ تنقید ہوئی تھی۔‘

انضمام الحق چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم یہ ورلڈ کپ جیتے تو باب وولمر کو کسی طور نہ بھولے بلکہ اس ٹیم میں کئی کھلاڑی ایسے ہیں جو باب وولمر کے ساتھ رہے ہیں لہذا وہ اس جیت کو باب وولمر کے نام کرکے انہیں ایک طرح سے خراج عقیدت پیش کریں کیونکہ باب وولمر کی دیرینہ خواہش تھی کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ جیتے۔