بد اچھا بدنام برا؟

سچن تیندولکر
،تصویر کا کیپشنتیندولکر آؤٹ ہونے کے بعد واک آؤٹ کر گئے تھے
وقت اشاعت

عالمی کپ کے آخری لیگ میچوں میں دو تین انتہائی دلچسپ واقعات پیش آئے جن سے اشارہ ملتا ہے کہ کامینٹیٹر اور ماہرین کس طری کھلاڑیوں کو اچھے یا برے رنگ میں رنگتے رہتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز اور انڈیا کے درمیان آخری لیگ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ دونوں ٹیمیں پہلے ہی کواٹر فائنل میں اپنی جگہ محفوظ کرچکی تھیں لیکن مقابلہ بہت اہم تھا کیونکہ جیتنے والی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے آسٹریلیا کو ہرانا پڑتا۔

اور عالمی کپ میں آسٹریلیا کا ریکارڈ سب کو معلوم ہے لہذا زیادہ تر ٹیمیں آسٹریلیا سے جہاں تک ممکن ہو بچنے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔

اس لیے بہت سے لوگ مذاق کر رہے تھے کہ دونوں ٹیمیں ہارنے کے لیے جی جان لگا دیں گی! ۔ بہر حال، انڈیا ویسٹ انڈیز کے میچ میں سچن تیندولکر پہلے ہی اوور میں چوک گئے، بال نے بیٹ کا باہری کنارہ لیا اور وکٹ کیپر نے کوئی غلطی نہیں کی۔

رکی پونٹنگ
،تصویر کا کیپشنآؤٹ ہونے کے باوجود رکی پونٹنگ نے فیصلے کا انتظار کیا

ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے اپیل کی جسے امپائر نے مسترد کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود سچن کریز پر نہیں رکے اور پویلین لوٹ گئے۔ اخبارات نے اس خبر کو کس طرح چھاپا اور ماہرین نے کیا کہا؟

سابق کھلاڑی ڈبلو وی رامن تھا کہ ’ یہ اس شخص کی عظمت ہے۔۔۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ سچن نے واک کی ہو۔‘

پھر رپورٹر کا تبصرہ کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اگر اس فیصلے پر تھرڈ امپائر کی مدد سے نظرثانی کا حق استعمال کرتی تب بھی ضروری نہیں تھا کہ سچن کو آؤٹ دیا جاتا کیونکہ بال نے ان کے بیٹ کا بہت باریک کنارہ لیا تھا۔

اور سابق امپائر وی کے راماسوامی کا جواب تھا کہ’ میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس بات کا تیندولکر کے فیصلے سے کچھ لینا دینا تھا، تیندولکر ایک ایماندار کھلاڑی ہیں جو کھیل کے جذبے کو قائم رکھنا چاہتےہیں۔‘

اور یہ سب ہنگامہ صرف اس بات پر کہ ایک کھلاڑی جس کو معلوم تھا کہ وہ آؤٹ ہوگیا ہے تھرڈ امپائر کا فیصلہ کیے بغیر پویلین واپس لوٹ گیا! اگر نہیں لوٹتا تو زیادہ امکان یہ ہی تھا کہ تھرڈ امپائر کے ذریعہ لوٹا دیا جاتا۔

عمر اکمل
،تصویر کا کیپشنعمر اکمل نے آسٹریلیا کے خلاف شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا

دو دلچسپ واقعات پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ میں پیش آئے۔ آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ اپنی اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم بال نے ان کے بھی بیٹ کا باہری کنارہ لیا اور کامران اکمل نے کیچ پکڑ لیا۔

لیکن امپائر نے پونٹنگ کو بھی آؤٹ دینے سے انکار کر دیا حالانکہ بال نے بیٹ کا کافی موٹا کنارہ لیا تھا۔ جب وہ کریز پر ڈٹے رہے تو پاکستان نے نظرثانی کا حق استعمال کیا اور تھرڈ امپائر نےگراؤنڈ امپائر کا فیصلہ بدل دیا۔

پونٹنگ نے واک نہیں کی کیونکہ آسٹریلوی کھلاڑی اکثر یہ کہتے ہیں کہ ان کا کام کھیلنا ہے، آؤٹ یا ناٹ آؤٹ کا فیصلہ کرنا امپائر کا کام ہے۔

ان کا موقف بھی درست ہے، اور اگر وہ رضاکارانہ طور پر پویلین نہیں لوٹتے تو یہ ان کا حق ہے، اس کے لیے انہیں بے ایمان نہیں کہا جاسکتا۔ اور نہ اس سے بحیثیت ایک کھلاڑی پانٹنگ کی عظمت میں کوئی کمی آئی۔

تیسری بات بھی اسی میچ میں ہوئی لیکن میدان پر نہیں، کامینٹیٹر باکس میں۔ پاکستان کی اننگز بھی مشکلات کا شکار تھی اور عمر اکمل بہت جارحانہ انداز میں بیٹنگ کر رہے تھے۔

عمر کی بیٹنگ کا ذکر ہو رہا تھا۔ ایک سابق آسٹریلوی کھلاڑی نے کہا کہ عمر اور کامران اکمل ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔۔۔ وکٹوں کے پیچھے خراب کارکردگی کی وجہ سے کامران پر زبردست تنقید ہو رہی تھی، یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ ذمہ داری عمر اکمل کو سونپی جا سکتی ہے لیکن عمر کی انگلی میں ’پر اسرار(انداز میں) ’چوٹ‘ لگ گئی۔۔۔!

تیندولکر آؤٹ ہو کر پویلین چلے جائیں تو وہ ایماندار ہیں، پونٹنگ نہ جائیں تو وہ بے ایمان نہیں لیکن عمر اکمل کی انگلی میں چوٹ لگ جائے تو۔۔۔۔۔۔اس ریمارکس کا مطلب آپ خود ہی نکال لیجیے۔