ورلڈ کپ کے آغاز سے سیمی فائنل تک‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کرکٹ کے دسویں عالمی کپ سے پہلے، آسٹریلیا میں شکست پر انکوائری، سپاٹ فکسنگ سکینڈل اور ٹیم کی قیادت کے بحران میں پھنسی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا سفر درج ذیل ہے۔
اٹھارہ جنوری کو پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ کے لیے پندرہ رکنی سکواڈ کا اعلان کیا تاہم<link type="page"><caption> ٹیم کے کپتان کے نام کا اعلان نہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/01/110118_pakteam_namaed_rza.shtml" platform="highweb"/></link> کیا گیا تھا۔
کپتان کے نام کے اعلان میں تاخیر سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ شاہد آفریدی سے خوش نہیں ہے اور وہ بحیثیت کپتان ان کی نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کی کارکردگی دیکھنا چاہتا ہے۔
<link type="page"><caption> کرکٹ ورلڈ کپ دو دہزار گیارہ </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/indepth/cluster_worldcup_2011_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اس کے بعد چار فروری کو کرکٹ بورڈ نے شاہد آفریدی کو ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا۔

اس طرح کئی ہفتے سے جاری وہ قیاس آرائیاں بالآخر ختم ہوگئی جو شاہد آفریدی کی جگہ مصباح الحق کو کپتانی دیےجانے سے متعلق تھیں۔
کپتان مقرر ہونے کے بعد آٹھ فروری کو شاہد آفریدی نے کہا تھا کہ کھلاڑیوں کا مورال بلند ہے اور پاکستان ٹیم ضرور سیمی فائنل تک پہنچے گی۔
اسی روز میڈیم فاسٹ بولر سہیل تنویر گھٹنے کی تکلیف کے سبب ورلڈ کپ سکواڈ سے باہر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے لیفٹ آرم فاسٹ بولر جنید خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
اس سے اگلے روز پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے بنگلہ دیش روانہ ہوگئی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے پندرہ فروری کو پاکستان نے ایک وارم اپ میچ میں بنگلہ دیش کو اٹھاسی رنز سے شکست دے دی تاہم دو دن بعد اٹھارہ فروری کو انگلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ میں اسے سڑسٹھ رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
تئیس فروری کو پاکستان نے عالمی کپ کے اپنے پہلے میچ میں کینیا کو دو سو پانچ رنز سے شکست دے دی۔
چھبیس فروری کو پاکستان نے ایک اہم میچ میں سری لنکا کو گیارہ رنز سے شکست دے دی تاہم اس میچ میں پاکستانی کی فیلڈنگ غیر معیاری رہی۔
میچ کے بعد کپتان شاہد آفریدی نے ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم نے اس طرح کی فیلڈنگ کی اور فاضل رنز کی بہتات جاری رکھی تو ان غلطیوں پر وہ وقت سے پہلے پاکستان پہنچ جائے گی۔
تین مارچ کو پاکستان نے ایک کمزور ٹیم کینیڈا کو چھیالیس رنز سے شکست دے دی۔تاہم اس موقع پر بھی کپتان شاہد آفریدی نے ٹیم کی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی ’دراصل خواب غفلت سے جگانے‘ کا سبب بنی ہے تا کہ آئندہ ایسی غلطی نہ کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا کہنا تھا کہ ان سمیت تمام ہی مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے پاس ٹیم کو ایک بڑے سکور تک اچھا موقع تھا لیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔ ’ٹیم کو اچھا سٹارٹ بھی نہیں مل رہا ہے۔یہ لمحہ فکریہ ہے جس پر خاص توجہ دینی ہوگی‘۔
اس میچ کے دو روز بعد ٹیم کے کوچ وقار یونس نے کہا کہ ٹیم کی بیٹنگ میں بہتری لائے بغیر بڑے میچوں میں جیت ممکن نہیں ہو سکے گی۔
یہی وجہ تھی کہ آٹھ مارچ کو نیوزی لینڈ نے پاکستان کو ایک سو دس رنز کے بڑے فرق سے شکست دے دی۔
اس میچ میں نہ صرف پاکستان کی فیلڈنگ غیر معیاری رہی بلکہ بلے باز بھی ہدف کا تعاقب کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چودہ مارچ کو پاکستان کا مقابلہ پھر ایک کمزور ٹیم زمبابوے سے تھا۔ اس میچ میں بارش کی وجہ سے اوورز محدود کر دیے گئے تاہم پاکستان نے میچ سات وکٹوں سے جیت لیا اور کوارٹر فائنل مرحلے تک رسائی حاصل کر لی۔
اس کے بعد انیس مارچ کو پاکستان کا ایک اہم میچ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا سے تھا جو پاکستان نے چار وکٹوں سے جیت لیا۔
آسٹریلیا کی گزشتہ چونتیس بین الاقوامی ایک روزہ میچوں میں یہ پہلی شکست تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
آسٹریلوی ٹیم کو ورلڈ کپ مقابلوں میں آخری مرتبہ سنہ ننانوے کے ورلڈ کپ کے گروپ مقابلوں میں شکست ہوئی تھی اور تب بھی اسے پاکستان نے ہی ہرایا تھا۔
پاکستان فتح کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے تئیس مارچ کو کھیلے جانے والے پہلے کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کو دس وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔
پاکستان سنہ انیس سو ننانوے کے بعد پہلی بار عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
پاکستان اس فتح کے بعد اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن پر آ گیا اور دوسرے گروپ کے کوارٹر فائنل میں بھارت آسٹریلیا کو شکست دے کر سیمی فائنل میں پاکستان کے مدمقابل آ گیا۔
سیمی فائنل تک پہنچنا ہی ماہرین کی نظر میں پاکستان کی ایک بڑی کامیابی تھی تاہم موہالی میں کھیلے جانے والے سیمی فائنل میں پاکستان نے وہ ہی غلطیاں دوہراہیں جن کا ذکر ماہرین کرکٹ کے علاوہ خود کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس متعدد بار کر چکے تھے یعنی فیلڈنگ اور بلے بازی پر توجہ کی ضرورت لیکن سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم ان ہی غلطیوں اور کمزوریوں سمیت میدان میں کھیلنے آئی اور شکست سے دوچار ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service















