کلین سویپ پر پاکستان کی نظر

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ جمعہ سے دبئی میں شروع ہو رہا ہے اور کپتان مصباح الحق کی نظریں کلین سویپ پر لگی ہوئی ہیں۔
پاکستان انگلینڈ کرکٹ میں آج تک کوئی بھی ٹیم سیریز کے تمام میچز جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اور پاکستانی ٹیم کے لیے اس مرتبہ نئی تاریخ رقم کا اچھا موقع ہے۔
پاکستان نے دبئی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ تین دن میں دس وکٹوں سے جیتا تھا جبکہ ابوظہبی میں انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے خلاف اپنے سب سے کم اسکور 72 پر ڈھیر ہوکر دوسرا ٹیسٹ چار دن میں 72 رنز سے ہارگئی تھی۔
کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ ٹیم کلین سویپ کرنے کے کسی اضافی دباؤ کے بغیر میدان میں اترے گی لیکن ظاہر ہے کہ وہ جیتنے کے لیے کھیلے گی اور اگر وہ یہ میچ بھی جیت لیتی ہے تو یہ بہت بڑا کارنامہ ہوگا کیونکہ اس سے قبل پاکستان نے کبھی بھی انگلینڈ کے خلاف سیریز کے تمام میچز نہیں جیتے ہیں۔
مصباح الحق کے خیال میں دو ٹیسٹ ہارنے کے بعد یقیناً انگلینڈ کی ٹیم بھی سخت حریف کے طور پر سامنے آئے گی تاہم وہ کوشش کرینگے کہ پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں ان کے کھلاڑیوں نے جو عمدہ پرفارمنس دی ہے اسے برقرار رکھیں۔
پاکستانی کپتان نے سعید اجمل اور عبدالرحمن کی بولنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بیٹسمینوں پر زبردست دباؤ ڈالے رکھتے ہیں اور چونکہ انگلش بیٹسمین اس سیریز میں بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہیں لہذا انہیں متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز میں پاکستانی سپنرز کو کھیلنے میں بہت دشواری ہو رہی ہے اور ان کے لیے سعید اجمل اور عبدالرحمن کا سامنا کرنا آسان نہیں ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سیریز میں انگلش بیٹنگ جس طرح پاکستانی سپنرز کے رحم و کرم پر رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چالیس وکٹوں میں سے چونتیس سپنرز کے ہاتھ لگی ہیں جن میں سعید اجمل کی سترہ اور عبدالرحمن کی بارہ وکٹوں کی قابل ذکر کارکردگی شامل ہے۔
انگلینڈ کے کپتان اینڈریو سٹراؤس کو یقین ہے کہ پچھلے دو ٹیسٹ میچوں میں جو کچھ ہوگیا وہ تیسرے ٹیسٹ میں نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے وہ یہ سیریز ہارنا نہیں چاہتے تھے لیکن ایسا ہوگیا اب تیسرا ٹیسٹ ان کے لئے اس لیے اہم ہے کہ وہ وائٹ واش نہیں چاہیں گے اور اس میچ میں ملنے والے اعتماد کے سہارے وہ پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز اور پھر سری لنکا کے خلاف اگلی سیریز کھیلنا چاہیں گے۔
انگلینڈ کے صرف دو بیٹسمین جوناتھن ٹراٹ اور الیسٹرکک ہی سیریز میں سو سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔
کیون پیٹرسن چار اننگز میں محض سترہ رنز بنا پائے ہیں۔ ای این بیل کے رنز کی تعداد چھتیس اور مورگن کی اکتالیس ہے۔ کپتان اینڈریو سٹراؤس کے لیے بھی لمحات کٹھن ہیں جو صرف اڑسٹھ رنز بناپائے ہیں اور آخری انیس اننگز میں سنچری نہ کرنے پر انہیں زبردست دباؤ کا سامنا ہے۔















