پالیکیلے ٹیسٹ کا پہلا دن بولرز کے نام

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان اور سری لنکا کے مابین ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری میچ کے پہلے روز کا کھیل مکمل ہونے پر میزبان ٹیم نے پہلی اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر چوالیس رنز بنائے تھے۔
اس طرح اسے پاکستان کی سبقت ختم کرنے کے لیے مزید ایک سو چوراسی رنز درکار ہیں۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/0/hi/english/static/cricket/statistics/scorecards/2012/07/87641/html/scorecard.stm" platform="highweb"/></link>
اتوار کو کھیل کے آغاز پر سری لنکا کے کپتان مہیلا جیاوردھنے نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جو کہ صحیح فیصلہ ثابت ہوا۔
پاکستان کی بیٹنگ کا ایک بار پھر آغاز اچھا نہ تھا اور چھپن رنز پر اس کی چار وکٹیں گر چکی تھیں۔ پاکستان کی جانب سے حفیظ بائیس رنز، اظہر علی اور یونس خان صفر پر جبکہ توفیق عمر انتیس رنز پر آؤٹ ہوئے۔
تاہم اس موقع پر کپتان مصباح الحق اور اسد شفیق نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پچاسی رنز کی شراکت قائم کی۔
اسد شفیق پاکستانی اننگز کے بہترین بلے باز رہے اور انہوں نے پچھہتر رنز بنائے اور پاکستان کی پوری ٹیم دو سو چھبیس رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
جواب میں سری لنکا کا آغاز بھی اچھا نہ تھا اور چودہ کے مجموعی سکور پر جنید خان نے یکے بعد دیگرے دو وکٹیں لے کر میزبان ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا۔
پاکستان کو اس کی تیسری کامیابی کھیل کے اختتامی لمحات میں ملی جب محمد سمیع نے مہیلا جیاوردھنے کو آؤٹ کیا۔
تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سری لنکا کو ایک صفر سے برتری حاصل ہے۔
گال میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو دو سو نو رنز سے شکست دی تھی جبکہ کولمبو میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ میچ ڈرا ہو گیا ہے۔
اس سے پہلے پاکستان اس دورے پر سری لنکا سے ایک روزہ میچوں کی سیریز تین ایک سے ہار چکا ہے۔
گال ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن نے مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن کولمبو ٹیسٹ میچ میں پاکستانی بے بازوں نے بہتر کارکردگی دیکھائی۔
اس ٹیسٹ میچ کے آخری روز پاکستان نے میزبان ٹیم کو فتح کے لیے دو سو اکسٹھ رنز کا ہدف فراہم کیا تھا۔
سری لنکا نے ہدف کے تعاقب میں کھیل کے اختتام پر دو وکٹوں کے نقصان پر چھیاسی رنز بنائے۔
میچ بارش کی وجہ سے متاثر ہوا اور کھیل کو متعدد بار خراب موسم کے باعث روکنا پڑا تھا۔















