موریشیس کی ٹیم پہلی بار اولمپکس میں

وقت اشاعت

موریشیئس دنیا بھر میں ساحلوں کے لیے مشہور ہے اور اس لیے تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس کی بیچ والی بال کی ٹیم اولمپکس میں حصہ لینے کے لیے لندن پہنچ رہی ہے۔

لیکن خواتین کی بیچ والی بال ٹیم نے شاندار ساحلوں پر والی بال بہت کم کھیلا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موریشیس میں کھیلوں کی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث کھلاڑیوں کا معیار اچھا نہیں ہے۔

موریشیس کی کھلاڑی نتاشا ریگوبرٹ فرانس میں رہتی ہیں جبکہ ان کی پارٹنر لی یُک لو کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔

تو پھر ان دونوں کا ملاپ کیسے ہوا؟ ان دونوں کو والی بال کی کھلاڑی اور ان دونوں کی مشترکہ دوست مارجوری ندال نے ملایا اور اس طرح اب ان دونوں کا اولمپکس میں حصہ لینے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔

ندال نے بی بی سی کی نامہ نگار یاسین محبت کو بتایا ’لی یُک لو نے مجھے فون کیا اور کہا کہ کینیڈا آؤ اور ایک سیزن کے لیے موریشیس والی بال ٹیم میں اس کی ساتھی بنوں۔ لیکن میرے لیے میرے بچوں کے باعث یہ ناممکن تھا۔ انہی دنوں میں نتاشا موریشیس میں تھیں اور وہ میرے ساتھ بیچ والی بال کھیلتی تھیں۔ میں نے اس سے بات کی اور اس نے لی یُک لو کا ای میل لے لیا اور اس طرح یہ دونوں اکٹھیں ہوئیں۔‘

ندال نے مزید کہا ’میں بہت خوش ہوں کہ میری وجہ سے یہ دونوں اکٹھی ہوئیں۔ انہوں نے جو کچھ بھی ٹیم کے طور پر حاصل کیا ہے وہ بے حد لگن اور محنت کے بعد کیا ہے۔‘

ای میل اور فون پر کئی بات رابطوں کے بعد نتاشا اور لی یُک لو سنہ 2008 میں فرانس میں ملیں اور انہوں نے اس کے بعد ناروے کے خلاف پہلا میچ کھیلا۔

موریشیس کی ٹیم نے مئی میں روانڈا میں کھیلے جانے والے کونٹیننٹل کپ میں کینیا کو شکست دے کر اولمپکس میں اپنی جگہ بنائی۔

اولمپکس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہو گا جب موریشیس کی ٹیم اولمپکس میں حصہ لے گی۔

لی یُک لو کینیڈا میں سکینڈری سکول میں حیاتیات اور فزیکل ایجوکیشن پڑھاتی ہیں۔وہ اپنے والدین کے ہمراہ کینیڈا منتقل ہوئیں۔

انہوں نے بیچ والی بال ٹورنٹو یونیورسٹی میں کھیلنی شروع کی اور کئی ایوارڈ جیتے۔

نتاشا فرانس کے شہر کانز میں رہائش پذیر ہیں اور انہوں نے بھی فرانس اور بیرونِ ملک کئی ایوارڈ جیتے ہیں۔

روانڈا میں جیت کے بعد اور اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد موریشیس میں اس ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

نتاشا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں اور ہم دونوں کا خواب پورا ہو گیا ہے۔ چار سال کی انتھک محنت کے بعد ہمیں فخر ہے کہ ہم اولمپکس میں موریشیس کی نمائندگی کریں گی۔‘

انہوں نے کہا ’ہمیں اب اپنے کھیل میں تبدیلی لانی ہو گی اور سٹائل کو بھی اپنی مخالف ٹیم کے مطابق تبدیل کرنا ہو گا۔ ہم کسی بھی ٹیم کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور ہم چین اور روس کے خلاف پہلے ہی کھیل چکی ہیں۔‘