محمد الیاس چیف سلیکٹر کے طور پر بحال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر کے عہدے پر بحال کر دیا ہے اور اس طرح اب کرکٹ ٹیم کے دو چیف سلیکٹر ہو گئے ہیں۔
محمد الیاس نے اپنے عہدے کی بحالی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے 11 فروری کو محمد الیاس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا تاہم اس وقت وہ جونیئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ تھے۔
محمد الیاس پہلی بار اعجاز بٹ کے دور میں چیف سلیکٹر بنائے گئے تھے۔
محمد الیاس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکا اشرف کے دور میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے ممکنہ مرد اور خواتین کھلاڑیوں کے علاوہ جونیئر ورلڈ کپ کے لیے انڈر 19 ٹیم کا انتخاب کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکا اشرف نے عامر سہیل کو چیف سلیکٹر مقرر کیا تھا اور محمد الیاس کو جونیئر اور خواتین ٹیموں کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی تھی۔
محمد الیاس کا موقف یہ ہے کہ ذکا اشرف نے انھیں سینئیر سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا چونکہ اس وقت ان کی بیٹی بہت بیمار تھیں لہٰذا وقتی طور پر عامر سہیل کو سینئیر سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا۔
عامر سہیل اور محمد الیاس صرف ایک ہفتہ اس عہدے پر برقرار رہ سکے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے محمد الیاس کی بحالی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف سامنے نہیں آیا، تاہم خیال یہی ہے کہ بورڈ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے دو چیئرمین ہوگئے ہیں کیونکہ اس وقت معین خان چیف سلیکٹر کے عہدے پر موجود ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ معین خان اس سے قبل بھی جب چیف سلیکٹر بنائے گئے تھے تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے نجم سیٹھی کو اس قسم کے طویل مدتی فیصلے کرنے سے روک دیا تھا۔















