ذکا دور کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس

ذکا اشرف نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے
،تصویر کا کیپشنذکا اشرف نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق چیئرمین ذکا اشرف کے دور میں ہونے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آڈٹ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو کروڑ روپے کی وصولی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی منیجمنٹ کمیٹی نے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں چیئرمین نجم سیٹھی کو تحقیقات کا اختیار دے دیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس رقم کی وصولی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق یہ آڈٹ رپورٹ ذکا اشرف کے دو ادوار میں ہونے والے اخراجات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ذکا اشرف نے اعجاز بٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم اپنے دوروں پر خرچ کی۔

ان کے دور میں میڈیا پر خرچ کی گئی رقم اعجاز بٹ کے دور سے پانچ گنا زیادہ بتائی گئی ہے اس کے علاوہ گورننگ بورڈ کے اجلاسوں پر بھی کافی رقم خرچ ہوئی جن میں سے ایک اجلاس نوڈیرو شوگر مل میں بھی منعقد ہوا تھا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذکا اشرف کے استعمال کے لیے ایک غیرمنظور شدہ سپلائر سے 14 بار ٹویوٹا پراڈو حاصل کی گئی جس پر بھی ایک خطیر رقم خرچ ہوئی۔

ذکا اشرف نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے۔

ذکا اشرف کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو مالی خسارے کا سامنا نہیں رہا۔

واضح رہے کہ ذکا اشرف کو تین بار پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے اور سپریم کورٹ حکومت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کیےجانے کے بعد منگل کو اس معاملے کی سماعت کرنے والی ہے۔