’سعید اجمل نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے‘

سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو سنہ 2014 میں ٹیسٹ کے بعد غیرقانونی قرار دیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنسعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو سنہ 2014 میں ٹیسٹ کے بعد غیرقانونی قرار دیا گیا تھا
    • مصنف, ذیشان علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے آف سپنر سعید اجمل کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بولنگ ایکشن کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنانے پر شو کاز نوٹس بھیجا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے بتایا کہ ’سعید اجمل کی جانب سے آئی سی سی کے طریقہ کار پر تنقید کرنا ان کے کانٹریکٹ کی خلاف ورزی ہے۔‘

شہریار خان نے کہا کہ ’سعید اجمل کو اس طرح بات نہیں کرنا چاہیے تھی۔‘

واضح رہے کہ سعید اجمل نے گذشتہ دنوں نجی چینل سے بات کرتے ہوئے آئی سی سی پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آف سپنروں کو غیرمنصفانہ طریقے سے بولنگ ایکشن پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سعید اجمل کا کہنا تھا کہ کچھ ملکوں خصوصاً پاکستان کے کھلاڑیوں کو اس کا زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی سپنر ہربھجن سنگھ کا ایکشن بھی مشکوک ہے۔

انھوں نے اپنے انٹرویو میں یہ سوال کیا تھا کہ ’صرف آف سپنر ہی کیوں نشانے پر ہیں، لیفٹ آرم سپنر، لیگ سپنر اور فاسٹ بولر کیوں نہیں؟‘

سعید اجمل کے اس انٹرویو کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں شو کاز نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے وضاحت طلب کی ہے۔

شہریار خان نے بتایا کہ اس بارے میں آئی سی سی کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو سنہ 2014 میں ٹیسٹ کے بعد غیرقانونی قرار دیا گیا تھا جہاں ان کا ایکشن مقررہ حد سے تجاوز کر رہا تھا۔

رواں سال کےآغاز میں انھیں اپنا بولنگ ایکشن تبدیل کرنے کے بعد بولنگ کروانے کی اجازت مل گئی تھی، تاہم اپنے نئے ایکشن کے ساتھ زیادہ موثر نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔