مکی آرتھر کیسے کوچ ہیں ؟

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر کرکٹ کی بین الاقوامی دنیا میں یہ کہہ لیں کہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے ہیں۔

وہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے قومی کوچ رہنے کے علاوہ کیریبئن، بنگلہ دیش اور پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں بھی کوچنگ کرچکے ہیں لیکن حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ وہ کرکٹ اسٹیبلشمنٹ اور ساتھی کرکٹرز کے ساتھ زیادہ عرصہ خوشگوار تعلقات برقرار نہ رہنے کے سبب یا تو خود کوچ کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں یا پھر نکالے گئے۔

بحیثیت کوچ ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے قبل یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ مکی آرتھر ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ ایک تنازعے میں بھی ملوث ہوچکے ہیں ۔

مکی آرتھر ماضی میں کرکٹرز کےساتھ جھگڑے کےسبب عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے
،تصویر کا کیپشنمکی آرتھر ماضی میں کرکٹرز کےساتھ جھگڑے کےسبب عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے

یہ اکتوبر 2010 کی بات ہے جب مکی آرتھر کا ایک جنوبی افریقی ویب سائٹ نیوز 24 کو دیا گیا انٹرویو ذرائع ابلاغ کی زینت بنا جس میں انھوں نے 2007 میں جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان پاکستان میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھیں شک ہے کہ پاکستانی ٹیم اس سیریز میں مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث تھی۔

مکی آرتھر نے اس انٹرویو میں پانچویں اور فیصلہ کن میچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے دو سو چونتیس رنز درکار تھے اور ایک مرحلے پر اس نے صرف چھ وکٹوں پر دو سو نو رنز بنا لیے تھے لیکن پھر پوری ٹیم دو سو انیس رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

مکی آرتھر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن کھیل کی سمجھ بوجھ آپ کو بتا دیتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔

اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مکی آرتھر کو لیگل نوٹس بھیجا تھا جس پر انھوں نے یہ موقف اختیار کرلیا کہ انھوں نے اس انٹرویو میں ایسی کوئی بات نہیں کہی اور ان کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا گیا۔

مکی آرتھر نے نائب کپتان شین واٹسن، مچل جانسن، عثمان خواجہ اور جیمز پیٹنسن کو ٹیسٹ کی ٹیم سے باہر کردیا تھا
،تصویر کا کیپشنمکی آرتھر نے نائب کپتان شین واٹسن، مچل جانسن، عثمان خواجہ اور جیمز پیٹنسن کو ٹیسٹ کی ٹیم سے باہر کردیا تھا

مکی آرتھر پانچ سال جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہے۔ان کی موجودگی میں جنوبی افریقی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک بنی۔اس نے چالیس سال میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتی اور آسٹریلوی سرزمین پر بھی پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا لیکن کپتان گریم سمتھ سے اختلافات کے نتیجے میں مکی آرتھر نے جنوبی افریقی ٹیم کی بھارت کے دورے پر روانگی سے صرف چار روز قبل کوچ کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

مکی آرتھر کی موجودگی میں آسٹریلیا نے انیس میں سے دس ٹیسٹ میچز جیتے لیکن ان کے آسٹریلوی کرکٹرز سے تعلقات خاصے خراب رہے خاص کر 2013 میں بھارتی دورے میں جب انھوں نے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر نائب کپتان شین واٹسن، مچل جانسن، عثمان خواجہ اور جیمز پیٹنسن کو موہالی ٹیسٹ کی ٹیم سے باہر کر دیا تھا۔

مکی آرتھر نے ہر کھلاڑی کو پریزنٹیشن دینے کے لیے کہا تھا لیکن یہ چار کھلاڑی ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

مکی آرتھر کو 2013 کی ایشیز شروع ہونے سے صرف تین ہفتے پہلے آسٹریلوی ٹیم کے کوچ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

کپتان گریم اسمتھ سے اختلافات کے نتیجے میں مکی آرتھر نے جنوبی افریقی ٹیم کی بھارت کے دورے پر روانگی سے صرف چار روز قبل کوچ کا عہدہ چھوڑدیا تھا
،تصویر کا کیپشنکپتان گریم اسمتھ سے اختلافات کے نتیجے میں مکی آرتھر نے جنوبی افریقی ٹیم کی بھارت کے دورے پر روانگی سے صرف چار روز قبل کوچ کا عہدہ چھوڑدیا تھا

مکی آرتھر پاکستان سپر لیگ کھیلنے والی کراچی کنگز کے کوچ ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ ڈریسنگ روم کے اندر ہونے والے تنازعے کو قابو کرنے میں ناکام رہے تھے جب روی بوپارا نے میڈیا میں آکر کپتان شعیب ملک کے بعض فیصلوں پر تنقید کی تھی جس کے بعد شعیب ملک نے کپتانی چھوڑ دی تھی اور بوپارا کپتان بنا دیے گئے تھے۔