متنازع معاملات پر کیتھولک چرچ کا اہم اجلاس

،تصویر کا ذریعہReuters
رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس اور دو سو سے زیادہ سینیئر پادریوں نے ویٹیکن میں کلیسائے روم کو درپیش کچھ متنازع مسائل پر بات چیت شروع کر دی ہے۔
اس بات چیت میں ان کے ساتھ ’لے کیتھولکس‘ بھی شامل ہوں گے اور اسقاط حمل، مانع حمل، ہم جنس پرستی اور طلاق جیسے متنازع موضوعات پر بحث کریں گے۔
لے کیتھولک وہ کیتھولکس ہیں جو کسی جماعت کا حصہ نہیں ہیں۔
یہ غیر معمولی اجلاس دو ہفتے تک چل سکتا ہے تاہم اس کے نتیجے میں کوئی فوری تبدیلیاں ممکن نہیں اور اگلے سال اسی سے متعلق ایک اور اجلاس ہوگا۔
سنیچر کو پوپ فرانسس نے اجلاس کے آغاز پر اپنے بشپس سے درخواست کی کہ وہ اپنے ماننے والوں پر ناقابلِ برداشت اخلاقی دباؤ ڈالنے سے گریز کریں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بحث ’مخلصانہ، آزادانہ اور برادرانہ‘ ہوگی، اور آج کل کے خاندانوں کی ’اہم تبدیلیوں‘ کی عکاسی کرے گی۔
گزشتہ سال پوپ فرانسس کی طرف کروائے جانے والے ایک عالمی جائزے کے نتائج میں تجویز دی گئی کہ کیتھولکس جنس اور مانع حمل جیسے معاملات پر چرچ کی تعلیمات کو مسترد کر رہے ہیں۔
روم میں بی بی سی کی مذہبی امور کی نامہ نگار کیرولین وائٹ کہتی ہیں کہ کیتھولک چرچ دنیا کی قدیم ترین مذہبی اداروں میں سے ایک ہے اور اسے اپنی تعلیمات کو تبدیل کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ملاقات سے کسی کو ایک حیرت انگیز نتیجے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے لیکن کئی کیتھولک لوگ امید کرتے ہیں کہ اس سے کچھ تبدیلی آئے ہے۔
کیتھولک چرچ کے دنیا بھر سے ایک ارب سے زیادہ ارکان ہیں۔



















