ٹرمپ حکم نامے جاری کرتے رہیں، امریکہ میں تشدد کی واپسی نہیں ہو گی: جان مکین

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جتنے مرضی حکم ناموں پر دستخط کرتے رہیں، قانون اپنی جگہ موجود ہے اور امریکہ میں تشدد کی واپسی نہیں ہو گی۔
ماضی میں سابق صدر اوباما کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے والے ریپبلکن سینیٹر مکین کا یہ بیان ان اطلاعات کے ردعمل میں آیا ہے جن کے مطابق صدر ٹرمپ تفتتیشی پالیسیوں کے جائزے کے لیے ایک صدارتی حکم جاری کرنے والے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ تشدد کرنے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ 'آگ کا مقابلہ آگ سے ہی کیا جا سکتا ہے'۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ ایسے کام کر رہی ہے جو کہ ہم نے آج تک نہیں سنے، تو کیا میں واٹر بورڈنگ پر یقین نہیں رکھ سکتا؟'
اس معاملے پر اپنے ردعمل میں واشنگٹن سے جاری کیے گئے بیان میں جان مکین نے کہا کہ جون 2015 میں امریکی سینیٹ نے نیشنل ڈیفینس آتھرائزیشن ایکٹ میں ایک ترمیم کی تھی جس میں یقینی بنایا گیا تھا کہ صرف وہی تفتیش کے لیے وہی تکنیک استعمال ہو سکے جس کا ذکر آرمی فیلڈ مینوئل میں ہے اور اس کے نتیجے میں تشدد کی ممانعت کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی فوج کے فیلڈ مینوئل میں تفتیش کے لیے واٹربورڈنگ اور اس جیسے دیگر پرتشدد حربے استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور اس مینوئل میں کسی بھی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ترمیم لاگو ہونے سے ایک ماہ قبل عوامی جائزے کے لیے پیش کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سی آئی اے کے نئے ڈائریکٹر مائیک پومپیو انھیں یقین دلا چکے ہیں کہ وہ آرمی فیلڈ مینوئل کی پاسداری کریں گے کیونکہ وہ سی آئی اے سمیت تمام امریکی ایجنسیوں پر لاگو ہوتا ہے۔
جان مکین کے مطابق ان کی کمیٹی کے تحریری سوالات کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے بھی کہا ہے کہ وہ 'امریکی فوج میں تفتیش کے لیے آرمی فیلڈ مینوئل کو واحد معیار کے طور پر استعمال کرنے کے حامی ہیں۔'
سینیٹر مکین نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ یہ رہنما زبان کے پکے ثابت ہوں گے۔





















