گلاسگو: چاقو سے حملہ، پولیس کی گولی سے ایک شخص ہلاک

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو کے ایک ہوٹل میں چاقو سے وار کر کے عام شہریوں کو ہلاک کرنے کی ایک واردات کے دوران پولیس نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔
اس واقعے کے بعد ایک پولیس اہلکار سمیت چھ افراد ہسپتال میں داخل ہیں اور پولیس اہلکار کے بارے میں کہا جا رہے ہے ان کی حالت تشویش ناک ضرور ہے لیکن خطرے سے باہر ہے۔
ابتدا میں ملنے والی اطلاعات میں کہا جا رہا تھا کہ گلاسگو شہر کی ویسٹ جارج سٹریٹ میں واقع ہوٹل پارک اِن میں چاقو سے حملے کی ایک واردات میں دیگر دو افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صورت حال قابو میں ہے اور عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ کہ پولیس اس واقع کے حوالے سے اب کسی اور ملزم کی تلاش میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تفصیلات نہایت اندہوناک ہیں اور انہیں جس طرح صورت حال واضح ہوتی جا رہی پولیس کی طرف سے معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا دل اس واقعے میں متاثر ہونے والے ہر شخص کے ساتھ ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ انہیں اس واقعے کی خبر سن کر شدید صدمہ ہوا ہے۔
سکاٹ لینڈ پولیس کے اعلیٰ اہلکار سٹیو جانسن نے عوام کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح پولیس اہلکاروں نے صورت حال سنبھال لی ہے اور انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایک مشتبہ شخص کو پولیس نے گولی کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا تھا جس کو اب طبی امداد دی جا رہی ہے۔
انہوں نے عوام سے کہا کہ پولیس اس واقع کے حوالے سے اب کسی اور ملزم کی تلاش میں نہیں ہے۔
پارک ان ہوٹل جہاں یہ واردات ہوئی اسے ملک میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو عارضی رہائش فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سکاٹ لینڈ کے وزیر انصاف حمزا یوسف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ صورت حال کے بارے میں پولیس حکومت کو آگاہ کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
ایک عینی شاہد جس نے اپنا نام جون بتایا اس کے بقول جب وہ ہوٹل کی تیسری منزل سے نیچے آئے تو انہوں نے استقبایلہ کاونٹر پر خون دیکھا۔
انہوں نے پی اے ایجنسی کو بتایا کہ پہلے انھیں صرف ایک زخمی نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ داخلی دروازے تک گئے اور زخمی سے چینخ کر کہا کہ وہ کسی کو مدد کے لیے بلا رہے ہیں اور ذرا صبر کرو۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے ایک اور شخص کو موت اور زندگی کی کشمکش میں دیکھا۔
ایک اور عینی شاہد کریگ ملروے نے جو ایک قریبی دفتری عمارت کے باہر موجود تھے، بتایا کہ انہوں نے چار افراد کو ایمبولینس میں ڈال کر لے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔
انہوں نے مقامی خبررساں ادارے پی اے کو بتایا کہ انہوں نے ایک افریقی النسل شخص کو زمین پر گرے دیکھا، جس کے پیروں میں جوتے نہیں تھے۔
انہوں نے کہا ایک اور شخص اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ گولی سے لگنے والا زخم تھا یا چاقو کے ورا سے آنے والی کوئی ضرب۔

عینی شاہد نے مزید بتایا کہ یہ شخص ان چار افراد میں شامل تھا جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ بھی متاثرہ افراد میں سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد افرا تفری کا عالم تھا اور کئی ایمبولینس کھڑی تھیں اور مسلح پولیس اہلکاروں کو تیزی سے ہوٹل کے اندر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ابھی وہیں کھڑے تھے جب پولیس باہر آئی اور انھیں اندر جا کر اندر سے دروازہ بند کرنے کو کہا۔





















