76 ہزار پاؤنڈ کی ڈیزائنر مصنوعات چوری کرنے والے خاتون جیل جانے سے بچ گئیں

ہجر الفہد
،تصویر کا کیپشنسماعت کے دوران بتایا گیا کہ ہجر الفہد نے دوسری مسافر کا سامان چرانے سے پہلے یہ دعوی کیا کہ وہ خود بھی دولت مند ہیں
وقت اشاعت

برطانیہ میں ایک خاتون نے ٹرین میں سوار ایک دوسری خاتون مسافر سے گفتگو شروع کی اور پھر اس کا سوٹ کیس چرایا جس میں 76 ہزار پاؤنڈ مالیت کے ڈیزائنر کپڑے اور زیورات تھے۔

26 برس کی ہجر الفہد کو لندن سے ساؤتھ ویلز جانے والی ٹرین میں اُس مسافر سے گفتگو کے دوران علم ہوا کہ وہ دولت مند ہیں۔

الفہد نے کارڈف شہر کے کراؤن کورٹ میں سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے ٹرین کے کارڈف سینٹرل سٹیشن پہنچنے پر شینیل اور کارٹیئر ڈیزائنرز کی مصنوعات سے بھرا سوٹ کیس چوری کیا تھا۔

الفہد کو آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے جسے ایک سال کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔

چوری کیے گئے سوٹ کیس میں کیا تھا؟

چرائے گئے سوٹ کیس میں 'انتہائی مہنگی ڈیزائنر مصنوعات' تھیں جن میں ایک شینیل ہینڈ بیگ، گھڑیاں، کارٹیئر کا ہار، بالیاں، کڑا اور سونے کی آنگوٹھیاں شامل تھیں۔

متاثرہ خاتون کو 40 میل دور اپنی منزل سوانزی پہنچنے پر احساس ہوا کہ ان کا سوٹ کیس غائب ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لندن کا پیڈنگٹن سٹیشن
،تصویر کا کیپشنہجر الفہد کو لندن کے پیڈنگٹن سٹیشن سے ٹرین ٹکٹ خریدنے پر پکڑا گیا۔

استغاثہ کے وکیل اینڈریو ڈیوس نے کہا کہ دونوں خواتین کے درمیان گفتگو اُس وقت شروع ہوئی جب الفہد نے اپنا سامان متاثرہ خاتون کے سوٹ کیس کے اوپر رکھا۔

کارڈف سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی ماں کا سراغ پولیس نے لندن کے پیڈنگٹن سٹیشن سے خریدے گئے ٹرین کے ٹکٹ کے ذریعے لگایا۔

انہیں پکڑنے والے پولیس افسران نے سوٹ کیس سے کم وبیش وہ ساری مصنوعات برآمد کیں جن کی مجموعی مالیت 76،559 پاؤنڈ ہے۔

ہجر الفہد
،تصویر کا کیپشنہجر الفہد نے حوری کی گئی مصنوعات پہن کر اپنی تصویریں کھینچیں جو اُن کے موبائیل فون پر ملیں

الفہد کے موبائل کی جانچ پر معلوم ہوا کہ انھوں نے سوٹ کیس میں موجود سامان کو انٹرنیٹ پر سرچ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اُن کی چوری شدہ سامان پہنے تصاویر بھی ملیں۔

جب ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ سوٹ کیس اُن کا ہے اور بعد میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اندر موجود پرتعیش سامان جعلی ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ستمبر 2018 میں ٹرین میں متاثرہ خاتون کے ساتھ گفتگو میں الفہد نے خود کو بھی دولت ظاہر کیا اور یہ کہ ان کے ہاں صفائی کے لیے ملازم ہے۔

ان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ 'وہ خود کو اپنے ذرائع سے بڑھ کر ہیش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور یوں اس گفتگو میں تصوراتی عنصر آگیا تھا۔'

’انہوں نے اپنے اعمال کو 'پاگل پن کا لمحہ' قرار دیا ہے اور مجھ سے کہا کہ معذرت کافی نہیں‘ ہے۔'

ساؤتھ ویلز اور لندن کے درمیان چلنے والی ٹرین
،تصویر کا کیپشنہجر الفہد کو لندن سے ساؤتھ ویلز جانے والی ٹرین میں اُس مسافر سے گفتگو کے دوران علم ہوا کہ وہ دولت مند ہیں۔

جج کیتھرین رچرڈز نے کہا کہ وہ قبول کرتی ہیں کہ الفہد کا کسی سے چوری کرنے کا ارادہ نہیں تھا مگر انہوں نے اس وقت اسے موقع سمجھا اور چوری کر لی۔

معطل کی گئی سزا کے ساتھ ساتھ الفہد کو 20 دن بحالی کے پروگرام میں شمولیت اور 150 گھنٹے بلامعاوضہ کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔