برطانیہ: لیبیا کے مسئلے پر نیا تنازعہ

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ لیبیا پر آئرش رپبلکن آرمی (آئی آر اے) کی بمباری کا نشانہ بننے والوں کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا گیا۔
بموں کا نشانہ بننے والے افراد کے لواحقین نے برطانوی حکومت پر لیبیا سے معاوضے کا مطالبہ کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا تھا۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ لیبیا کو معاوضہ دینا چاہئے کیونکہ اس نے آئی آر اے کو حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مادہ سپلائی کیا تھا۔
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والی خبر کی تردید کی ہے کہ ان کی طرف سے دباؤ نہ ڈالے جانے کی وجہ لیبیا کے ساتھ تیل کے معاہدے پائے۔
وزیرِاعظم کے دفتر نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ وزراء نے اس لیے دباؤ نہیں ڈالا کہ لیبیا کے ساتھ یہ معاہدے کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔
گزشتہ ستمبر کے ایک خط میں گورڈن براؤن نے لواحقین کے وکیل جیسن میک کیو سے کہا تھا کہ لیبیا پر معاوضے کا دباؤ ڈالنا درست نہیں کیونکہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایک اہم پارٹنر ہے اور لیبیا کے ساتھ یہ شراکت جاری رکھنا برطانیہ کے مفاد میں ہے۔
جیسن میک کیو حکومت کو اس بات کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاوضے کے معاملے کو برطانیہ براہِ راست لیبیا کی حکومت کے ساتھ اعلٰی سطح پر اٹھائے۔
اتوار کو وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے خط میں گورڈن براؤن نے ان اقدامات کی تفصیل جاری کی جو حکومت برطانیہ نے آئی آر اے کے تشدد کے شکار لوگوں کی مدد کے لیے طے کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیبا پر براہ راست دباؤ ڈالنے کے مشورے کو مسترد کیے جانے کے باوجود انہوں نے لواحقین کے وکیل جیسن میک کیو سے کہا کہ حکومت نے امریکیوں پر اس بات کے لیے زور دیا ہے کہ امریکہ اور لیبیا کے درمیان معاوضے کا جو بھی معاہدہ طے پائے اس میں برطانوی متاثرین کو بھی شامل کیا جائے۔



















