ائر لائن بم پلاٹ میں تین ’مجرم‘

عبداللہ احمد علی، تنویر حسین اور اسد سرور کو دھماکوں کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیا گیا
،تصویر کا کیپشنعبداللہ احمد علی، تنویر حسین اور اسد سرور کو دھماکوں کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیا گیا
وقت اشاعت

لندن سے امریکہ جانے والے مسافر طیاروں کو گھریلو ساخت کے مائع بموں سے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی پر تین افراد کو مجرم قرار دیا گیا۔

لندن کے وولچ کراؤن کورٹ میں جیوری نے عبداللہ احمد علی، تنویر حسین اور اسد سرور نامی تین افراد کو گھریلو ساخت کے مائع بموں کے دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مجرم قرار دیا۔

سن دو ہزار چھ میں ان افراد کی گرفتاری کے بعد برطانوی ہوائی اڈوں پر نئی پابندیاں متعارف کرائی گئی تھیں جس کے نتیجے میں مسافروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان تین افراد کو پہلے بھی مائع بموں کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیا گیا تھا لیکن اس وقت جیوری اس بات کا فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ آیا ان کا منصوبہ ان بموں کو مسافر طیاروں کے اندر لے جا کر وہاں دھماکے کرنا بھی تھا یا نہیں۔

اب دوسری جیوری نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردی کا ایسا منصوبہ بھی وجود رکھتا تھا۔

اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو اس سے ہزاروں افراد ہلاک ہوتے اور ان دھماکوں سے ہونے والی تباہی گیارہ ستمبر سے دہشت گرد حملوں سے زیادہ ہوتی۔

جیوری نے ابراہیم ساونت، عرفات خان، وحید زمان اور ڈونلڈ سٹیورٹ وائٹ کو مائع بموں کے ذریعے مسافر طیاروں کو تباہ کرنے کے الزام سے بری کر دیا گیا۔

ڈونلڈ سٹیورٹ وائٹ کو قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے عام الزام سے بھی بری کر دیا گیا۔ تاہم جیوری نے ابراہیم ساونت، عرفات خان اور وحید زمان نے قتل کی منصوبہ بندی کے عام الزام کے سلسلے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

اس کیس کے آٹھویں ملزم عمر اسلام کو بھی قتل کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیا گیا۔ تاہم جیوری اس بات پر متفق نہیں ہو سکی کہ آیا وہ مسافر طیارے کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے یا نہیں۔