امریکہ کو ایران کی پیشکش قبول

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی ’جامع‘ مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران نے بدھ کو ’جامع اور بامقصد‘ مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن اپنے جوہری پروگرام کے اہم مسئلے پر کوئی بات نہیں کی۔
امریکہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’اس پیشکش سے ہمارے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات دور نہیں ہوں گے‘ لیکن ہم ’ اس بات کا امتحان لینے کو تیار ہیں کہ ایران بات چیت کا کتنا خواہاں ہے‘۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزوگی بند کر دے جو اس کے بقول ایران جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرے گا جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے فلپ کراولی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جاری کیے گئے دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ’بات چیت کے لیے تیار ہے‘ لیکن ان کے مطابق ’اس دستاویز میں ہمارے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات کا کوئی ذکر نہیں ہے‘۔
مسٹر کراولی نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جلد ہی میٹنگ کرنا چاہیں گے اور دیکھیں گے کہ ایران اپنی پیشکش میں کتنا سنجیدہ ہے۔
انہوں نے کہا ’اگر ہماری ملاقات ہوئی تو ہم جوہری مسئلے کو بھی زیر بحث لائیں گے اور دیکھیں گے کہ ایران کا اس پر کیا ردعمل ہوتا ہے‘۔
دنیا کے چھ بڑے ممالک امریکہ، روس، چین، فرانس، جرمنی اور برطانیہ ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے کے بدلے سفارتکارانہ پیشکشیں کرتے آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعہ کو روس کے وزیرِ اعظم ولادمیر پوتن نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اس پر کسی فوجی حملے یا نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کے متعلق خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران پر ’کوئی بھی حملہ، بہت خطرناک اور ناقابلِ قبول ہوگا اور اس سے وسیع پیمانے پر دہشت گردی ہونے کا امکان ہے۔‘
وزیرِ اعظم پوتن نے ایران سے بھی کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے متعلق ذرا تحمل کا مظاہرہ کرے۔



















