جارج مچل مشرقِ وسطی کے دورے پر

- مصنف, شاہ زیب جیلانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت
- وقت اشاعت
مشرق وسطی کے لیے صدر اباما کے خصوصی ایلچی جارج مچل اسرائیل پہنچے ہیں جہاں وہ فلسطینی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان کسی ابتدائی ملاقات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجوزہ ملاقات دو ہفتے بعد نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہو سکتی ہے۔
امریکہ کو امید ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان براہِ راست ملاقات سے خطے میں امن مذاکرات کی بحالی میں پیش رفت ممکن ہے۔
لیکن فلسطینی قیادت نے واضع کیا ہے کہ ایسے وقت میں جب اسرائیلی حکومت مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کی تعمیرات روکنے کی بجائے مزید نئی غیرقانونی تعمیرات کا اعلان کر رہی ہے، ایسی ملاقاتیں بے سود ہوں گی۔
اسرائیلی حکومت نے ابھی پچھلے ہفتے ہی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کا آبادکاری کے لیے چار سو پچپن نئے مکان تعمیر کرنے کی اجازت دی۔ ساتھ ہی اسرائیل کی طرف سے اشارے ہیں کہ وہ مذاکرات کی خاطر مزید نئی تعمیرات عارضی طور پر صرف کچھ مہینوں کے لیے روکنے پر غور کر سکتا ہے۔
اپنے دورے میں اسرائیلی صدر شمعون پریز سے، پیر کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم سے جبکہ منگل کو فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کریں گے۔
امریکی صدر باراک ابامہ اسرائیلی حکومت پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ یہودیوں کی تعمیرات کے منصوبے مکمل طور پر بند کردے تاکہ فلسطینوں کے ساتھ بات چیت شروع کرائی جا سکے۔ لیکن اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہو کی سخت گیر حکومت نے اب تک دنیا میں اپنے سب سے بڑے حلیف ملک کے اس مطالبے کو بظاہر نظرانداز کیا ہے۔
امریکہ خطے کے عرب ملکوں پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ قیامِ امن کی خاطر اسرائیل کی جانب لچک دکھائیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم اتوار کی شام قاہرہ میں صدر حسنی مبارک سے ملاقات کررہے ہیں۔مصر اور کسی حد تک جرمنی، اسرائیلیوں اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے ممکن بنانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ حماس تین سال سے اس کی قید میں موجود اسرائیلی فوجی گیلاد شالیط کو رہا کرے جبکہ حماس چاہتی ہے کہ پہلے اسرائیلی جیلوں میں قید اس کے کئی سو ارکان کو رہا کیا جائے۔



















