مشرف کے بیان پر سنجیدگی سے غور:امریکہ

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
- وقت اشاعت
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے جن میں کہا گیا ہے پاکستان نے امریکہ سے ملنے والی امداد اور اسلحہ کو ممکنہ طور پر بھارت کے خلاف استعمال کیا ہے۔
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ملنے والی امداد کے تحت ملنے والے جنگی ساز و سامان کے بھارت کےخلاف استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ انہوں نے کسی کو دھوکہ دیا یا نہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج نے تمام وسائل کو ہر جگہ استعمال کیا ہے۔
پیر کے روز امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان ایئن کیلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کی پالیسی یہی ہے کہ اس کی جانب سے دیا گیا اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال ہر گز نہ کیا جائے اور امریکہ ان الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے کہ پاکستان نے اس اسلحہ کو بھارت کے ساتھ ملنے والی سرحد پر تعینات کیا ہے یا کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
ایئن کیلی نے کہا کہ پرویز مشرف اب ایک عام شہری ہیں اس لیے انہوں نے جو کہا ہے اس کی مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں لیکن امریکہ کی پالیسی کا جہاں تک تعلق ہے وہ واضح ہے۔
بھارت نے بھی جنرل مشرف کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
بھارت نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد پر کڑی نگاہ رکھی جانی چاہیے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ کیا جاسکے۔ جنرل مشرف کے اس دعوے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہ امریکہ سے ملنے والی فوجی امداد کو ہندوستان کے خلاف دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا، ہندوستان کے نائب وزیر خارجہ ششی تھرور نے کہا کہ انہیں یہ سُن کر کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔
’ہم کئی برسوں سے یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکہ سے پاکستان کو ملنے والی امداد ہمارے خلاف استعمال کی جاسکتی ہے۔ ہم اس بات کی تو حمایت کرتے ہیں کہ پاکستان کودہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے، اس دہشت گردی کا جو اسی کی سرزمین سے پنپ رہی ہے، غیر ملکی امداد دی جانی چاہیے لیکن یہ تو نہیں ہونا چاہیے کہ یہ امداد ہمارے ہی خلاف استعمال کی جائے۔ جنرل مشرف کے بیان سے ہمارے موقف کی تصدیق ہوتی ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ششی تھرور نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔



















