غزہ میں جنگی جرائم ہوئے: اقوامِ متحدہ

فلسطینی اور حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں غزہ میں چودہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد گیارہ سو چھیاسٹھ تھی۔
،تصویر کا کیپشنفلسطینی اور حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں غزہ میں چودہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد گیارہ سو چھیاسٹھ تھی۔
وقت اشاعت

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ غزہ میں ہونے والی حا لیہ لڑائی میں فلسطینی اور اسرائیلی فوجیوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔رپورٹ میں اسرائیل پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی ہے کہ اس نے تین ہفتے تک جاری رہنے والے اپنے اقدام کے دوران ’اجتماعی سزا‘ اور ’طاقت کا غیر متناسب‘ استعمال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاید دونوں فریقوں نے انسانیت کے خلاف جرائم بھی کیے ہیں۔

فلسطینی اور حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں غزہ میں چودہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد گیارہ سو چھیاسٹھ تھی۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ واضح طور پر یکطرفہ ہے۔ اسرائیل نے حقائق جاننے کے لیے اقوامِ متحدہ کی ٹیم کے ساتھ تعاون کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

اس تحقیقات میں جس کی سربراہی جنوبی افریقہ کے ایک سابق جج رچرڈ گولڈ سٹون کر رہے ہیں، کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس فلسطینی علاقے غزہ پر حملے کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے کئی ایسی کارروائیاں کی گئیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ تحقیقات کے مطابق اِس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ فلسطینی شدت پسند اسرائیلی شہریوں پر راکٹ برسا کر جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے لڑائی سے پہلے ہی غزہ کے مکینوں کی ’ناکہ بندی‘ کر دی تھی جو اجتماعی سزا کے مترادف تھا۔