جیل میں تشدد کیا گیا:منتظرالزیدی

سابق امریکی صدر جارج بش پر جوتا پھینکنے والے عراقی صحافی منتظر زیدی نے رہائی کے بعد عراقی جیل حکام پر تشدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
منتظر زیدی کو پیر کو رہا کیا جانا تھا تاہم کاغذی کارروائی کے وقت پر مکمل نہ ہو پانے کی وجہ سے انہیں منگل کو رہا کیا گیا ہے۔
رہائی کے بعد منتظر زیدی نے الزام لگایا کہ جیل میں عراق کے سینیئر حکام نے ان پر جیل میں تشدد کیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سے معافی مانگی جائے اور کہا کہ جن حکومتی اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا تھا ان کے نام وہ بعد میں ظاہر کریں گے۔ یاد رہے کہ ماضی میں منتظر زیدی کے بڑے بھائی نے الزام لگایا تھا کہ جیل میں زیدی کو مارا پیٹا گیا اور ان کے بازو اور پسلیاں توڑ دی گئیں تاہم عراقی فوج نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
زیدی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی بھی جان کا خطرہ ہے۔
زیدی نے صدر بش پر جوتا پھینکتے ہوئے انہیں ’ کتا‘ کہا تھا ان کے اس جرم کے لیے انہیں تین سال کی سزا سنائی گئی تھی اور مارچ میں جیل بھیج دیا گیا تھا لیکن ان کے صاف ستھرے ماضی کے سبب ان کی تین سال کی سزا کم کر کے ایک سال کردی گئی تھی اور اب جیل میں ان کے اچھے برتاؤ کی وجہ سے انہیں جلد رہا کیا جا رہا ہے۔
منتظر زیدی کو صدر بش پر جوتا پھینکنے کے بعد عرب دنیا میں ایک ہیرو کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ صدر بش پر جوتا پھینکنے سے قبل منتظرالزیدی کو بہت کم لوگ جانتے تھے لیکن اس واقعہ کے بعد قاہرہ کے ایک نجی ٹی وی چینل ’البغدادیہ‘ کے لیے کام کرنے والے صحافی زیدی عرب دنیا کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بھی ایک ہیرو کی حیثیت سے دیکھے جانے لگے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ صدر بش کو اس سے بہتر ڈھنگ سے الودع نہیں کہا جا سکتا تھا۔
سابق امریکی صدر پر جوتا پھینکتے ہوئے انہوں نے کہا تھا’ کتے یہ عراقی بیواؤں، یتیم بچوں اور ان عراقیوں کی جانب سے الوداعی تحفہ ہے جو عراق میں مارے گئے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیدی کے اس عمل پر لوگوں نے جشن منایا ،انٹرنیٹ پر گیمز بنائے گئے، ٹی شرٹ بنائی گئیں اور کچھ لوگوں نے زیدی کے لیے اپنی بیٹیوں کے رشتے بھی پیش کیے۔ چینل البغدادیہ کے ایک سینئیر اہلکار کا کہنا ہے کہ قید کی سزا کے دوران بھی زیدی کی تنخواہ جاری رہی اور اب دارالحکومت میں ان کے لیے ایک گھر خریدا گیا ہے۔



















