اوباما پر تنقید اور جِمی کارٹر کی تشویش

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
- وقت اشاعت
امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر نے کل آخر وہ بات کہہ دی جس کا پتا دل ہی دل میں لاکھوں امریکیوں کو تھا لیکن اس کا اظہار کرنے کی جرات کوئی نہیں کر رہا تھا۔ سیاستدان یا عام شہری سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں نسل پرستی کی بات کرنا مناسب نہیں۔
لیکن جمی کارٹر نے منگل کی رات اپنے ایک خطاب میں کہا کہ صدر براک اوباما کے خلاف جو ملک میں ایک طوفان بدتمیزی جاری ہے اور میں سے بیشتر اس لیے ہے کہ براک اوباما سیاہ فام صدر ہیں۔
کارٹر نے کہا کہ امریکہ میں بہت سارے لوگوں کے دل میں یہ بات موروثی طور پر ہوتی ہے کہ ایک سیاہ فام کو امریکہ کا صدر نہیں بننا چاہیے۔
جمی کارٹر کے یہ الفاظ جب سے میڈیا میں آئے ہیں ملک کا تمام میڈیا اس پر بحث کر رہا ہے۔ دائیں بازو کا میڈیا تو بس ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے اور براک اوباما کے ایسے ایسے بیانات نکال لائے جا رہے ہیں جن سے ثابت ہو کہ انہوں نے بھی نسل پرستانہ باتیں کی ہیں۔
پچھلے دنوں براک اوباما نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے صحت کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات پر تقریر کی جس کے دوران ریپبلک پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ جو ولسن نے چلاتے ہوئے کہا ’تم جھوٹے‘۔
اس حرکت کو امریکی پارلیمانی روایات کے خلاف تصور کیا گیا اور جو ولسن کی پارلیمان نے مذمت کی۔ لیکن اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ولسن جوانی میں ایک ایسے سیاستدان کے ساتھ کام کرتے رہیں ہیں جو سفید اور سیاہ فام باشندوں کے درمیان فرق کے قائل تھے اور دونوں کے اسکولوں، کلیساؤں اور دیگر اداروں کو الگ الگ رکھنے کی وکالت کرتے رہے تھے۔
ولسن نے ابھی اس الزام کی تردید نہیں کی، لیکن ان کے بیٹے نے بیان دیا ہے کہ ان کے والد کا عمل نسل پرستی کی بنیاد پر نہیں تھا۔ جو ولسن نے صدر اوباما کو ذاتی طور پر فون کرکے اپنی حرکت کی معافی بھی مانگ لی ہے۔
لیکن جمی کارٹر کہتے ہیں کہ اس طرح کے نعرے کہ ’امریکہ کو دوبارہ واپس لیا جائے گا‘ اور جس طرح کی زبان استعمال صدر کے خلاف استعمال کی جارہی ہے اس کا صرف یہ مقصد نہیں کہ اس بات پر مخلصانہ بحث کی جائے کہ امریکہ میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں یا نہیں بلکہ ان کے پیچھے عزائم مختلف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریپبلکن پارٹی کے رہنما اس کی تردید کرتے ہیں کہ صدر کے خلاف جاری مہم میں نسل پرستی کا عنصر شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹ نسل پرستی کا کارڈ بہت بھونڈے طریقے سے کھیل رہے ہیں۔
اوباما کے خلاف حالیہ مہم کی وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سات ماہ قبل ان کی جو عوامی مقبولیت تھی اس میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے اور یہی قدامت پسند ریپبلکن چاہتے ہیں۔



















