’اقوام متحدہ کی رپورٹ جانبدار ہے‘

فائل فوٹو ، غزہ
،تصویر کا کیپشنحقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں غزہ میں چودہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے
وقت اشاعت

اسرائیل کی حکومت نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر تنقید کی ہے جس کے مطابق غزہ میں ہونے والی حالیہ لڑائی میں اسرائیلی فوجیوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی لڑائی میں شاید دونوں فریقوں نے انسانیت کے خلاف جرائم بھی کیے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں شروع سے لے کر آخر تک نقص ہیں جبکہ رپورٹ مرتب کرنے والا پینل جانبدر تھا جس کی رائے مضحکہ خیز ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی سربراہی میں دوبارہ سے تحقیق ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں اسرائیل پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی ہے کہ عسکریت پسندوں کے راکٹ حملوں کے جواب میں اس نے گنجان آباد غزہ پر طاقت کا غیر متناسب استعمال کیا جس میں شہریوں کی بلا تفریق ہلاکتیں ہوئیں۔

فلسطین کے عسکریت پسند تنظیم حماس نے بھی رپورٹ کے چند حصوں پر اعتراض کیا ہے جن کے مطابق حماس نے اسرائیل پر فوجی اور شہری ہدف کی تمیز کیے بغیر راکٹ حملے کیے تھے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ مرتب کرنے والا پینل شروع ہی سے جانبدار رہا ہے اور یہاں تک کے اقوام متحدہ کی بھی رائے ہے کہ کمیشن برائے انسانی حقوق جس نے رپورٹ بنائی ہے وہ اسرائیل مخالف ایجنڈہ رکھتا ہے۔

اسرائیلی ترجمان کے مطابق غزہ میں جہاں سے لوگوں سے شواہد حاصل کیے گئے ہیں وہ عسکریت پسند تنظیم حماس کے زیر اثر ہیں اس لیے ان کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے کمیشن کی اس تجویز کو مسترد کیا جس کے مطابق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اسرائیل کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اپنی فوج کی جانب سے ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش کرے یا اس کے کمانڈرز یا افسر بین الاقوامی جنگی جرائم کی عدالت کا سامنا کریں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی الزامات کی تحقیقات کی ہیں لیکن اس میں کوئی قابل اعتراض شواہد سامنے نہیں آئی ہے تاہم کچھ کیس ایسے ہیں جنہیں التواء میں رکھا گیا ہے۔

حماس کے حکام نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے جس میں غیر متوقع طور پر اسرائیل پر تنقید کی گئی ہے لیکن حماس نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل حانیہ کے مطابق جنگ کے دوران فلسطین کے شہری اور غزہ کے رہائشیوں نے اپنا دفاع کیا نہ کہ وہ حملہ کر رہے تھے۔

فلسطینی اور حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں غزہ میں چودہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد گیارہ سو چھیاسٹھ تھی۔