’ایران کو جوہری ہتھیار درکار نہیں‘

محمود احمدی نژاد
،تصویر کا کیپشنہم جوہری ہتھیاروں کے بغیر بھی اپنا دفاع کرسکتے ہیں:ایرانی صدر
وقت اشاعت

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے تاہم ایران جوہری توانائی کے حصول کی کوششیں جاری رکھےگا۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول ان کے ’پروگرام اور منصوبے کا حصہ نہیں ہے‘۔

محمود احمدی نژاد نے کہا کہ ان کا ملک جوہری پروگرام کے حوالے سے اقوامِ متحدہ، امریکہ اور یورپی ممالک کے دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کی بات کر رہے ہیں تو یہ عمل ایران میں کبھی نہیں رکے گا‘۔

انٹرویو کے دوران ایرانی صدر سے بارہا یہ سوال کیا گیا کہ کیا کوئی بھی ایسی صورت ہے جس میں ایران جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے تاہم انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ یہ ہتھیار ایران کے کسی کام کے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں جوہری ہتھیار درکار نہیں ہم ان کے بغیر بھی اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔‘

مغربی طاقتوں کا دعوٰی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام دراصل جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ہے تاہم ایران اس الزام سے انکار کرتا آیا ہے۔ مغربی ممالک ایران سے جوہری پروگرام معطل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ایران کے صدر آئندہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں جبکہ ایران نے آئندہ ماہ اپنے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے بات چیت کے نئے سلسلے کا آغاز بھی کرنا ہے۔

انٹرویو کے دوران ایرانی صدارتی انتخاب کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ایران صدر نے انتخاب کے قانونی ہونے کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے انتخابی قوانین کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں اور ملک میں قانون کی عملداری ہے اور مجھے انتخابی عمل میں خرابی نظر نہیں آتی۔‘

ادھر ایران میں جمعۃ الوداع کے دن منائے جانے والے یوم القدس کے موقع پر.تہران میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یوم القدس کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس میں اپوزیشن رہنما اور صدارتی انتخاب میں شکست کھانے والے امیدوار میر حسین موسوی کی شرکت بھی متوقع ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے افسران کا کہنا ہے کہ اگر اس جلوس کو حزبِ مخالف کے مظاہرے کی شکل دینے کی کوشش کی گئی تو وہ فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کے مطابق ایرانی حزبِ اختلاف کو دو ماہ سے کوئی جلوس نکالنے کا موقع نہیں ملا ہے اور یوم القدس ان کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔