ہولوکاسٹ سے ایران کے انکار پر مغرب برہم

احمدی نثراد
،تصویر کا کیپشن’یہودیوں کی نسل کشی جھوٹ پر مبنی ہے اور اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا‘
وقت اشاعت

ایرانی صدر کی جانب سے یہودیوں کے قتلِ عام کو ایک فسانہ قرار دیے جانے کی مغربی ممالک نے شدید مذمت کی ہے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے تہران میں القدس کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے اسرائیل کے بنانے کے فیصلے پر مغرب پر تنقید کی۔ احمدی نژاد نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کی نسل کشی ایک فسانہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہودیوں کی نسل کشی جھوٹ پر مبنی ہے اور اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا‘۔

احمدی نژاد کے اس بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری رابرٹ گبس نے مسلم دنیا سے براک اوباما کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہودی قتلِ عام کو فسانہ کہنا جہالت اور نفرت کی علامت ہے۔

رابرٹ گبس کا کہنا تھا کہ اس طرح کی باتیں تہران کو دنیا میں مزید تنہا کردیں گی۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمئیر نے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات کی متحدہ طور پر مذمت کی جانی چاہئے۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ نے اس بیان کو ناقابلِ قبول اور افسوس ناک قرار دیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ایرانی صدر کا ہولوکاسٹ سے انکار قابل نفرت اور جاہلانہ عمل ہے۔

دریں اثناء امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ جلدی ہی اپنے جوہری ارادوں کو ظاہر نہیں کرے گا تو عالمی سطح پر اسے مزید تنہائی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزوگی بند کر دے جو اس کے بقول ایران جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرے گا جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔