نیو کنزرویٹزم کےگاڈ فادر کا انتقال

بش انتظامیہ میں ارونگ کرسٹول کے خیالات سے اتفاق کرنے والے متعدد اہلکار تھے
،تصویر کا کیپشنبش انتظامیہ میں ارونگ کرسٹول کے خیالات سے اتفاق کرنے والے متعدد اہلکار تھے
وقت اشاعت

’نیو کنزرویٹزم‘ کے ’گاڈفادر‘ کے نام سے پہچانے جانے والے ارونگ کرسٹول نواسی برس کی عمر میں پھیھڑے کے سرطان سے انتقال کر گئے ہیں۔

ارونگ کرسٹول نے اپنی جوانی کے زمانے میں مقبول کمیونسٹ خیالات کو رد کرتے ہوئے دائیں بازوں کے مفکر اور مصنف کی حیثیت سے شہرت پائی۔

بش انتظامیہ پر ارونگ کا گہرا اثر پایا جاتا تھا اور سنہ 2002 میں انہیں امریکی صدر جارج بش نے صدارتی تمغۂ آزادی بھی دیا تھا۔

ارونگ کرسٹول نیویارک کے بروکلین علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ یوکرین سے ترکِ سکونت کرنے والے یہودی تارکینِ وطن والدین کی اولاد تھے۔ تیس کی دہائی میں ٹارٹسکی کے خیالات سے متاثر ہوگئے تاہم بعد ازاں انہوں نے ٹارٹسکی کے قدامت پسندانہ بائیں بازو کے خیالات پر لبرل ازم کو ترجیح دی۔ تاہم ساٹھ کی دہائی میں ’نیو لیفٹ‘ کے عروج کے بعد انہوں نے لبرل ازم کو بھی چھوڑ دیا۔

ستّر کی دہائی میں انہوں نےریپبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کی جو کہ ایک زمانے میں خود ان کے لیے بقول انکے ’اتنی ہی اجنبی تھی جتنا کہ میرا کسی کیتھولک عبادت میں حصہ لینا‘۔.

سنہ 2003 میں اپنی ایک تحریر میں کرسٹول نے نیو کنزرویٹزم کو ایک نقطۂ نظر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی جڑیں ستر کی دہائی کے مایوس لبرل مفکرین میں ہیں۔

نیوکنزرویٹزم کی اصطلاح اشتراکی مصنف مائیکل ہیرنگٹن نے ستر کی دہائی کے اوائل میں ایجاد کی تھی۔ ارونگ کرسٹول کے بارے میں نیوکنزرویٹزم کے شریک بانی نارمن پاڈہارٹز کا کہنا تھا کہ ’ارونگ کرسٹول کے خیالات کا اثر گزشتہ چالیس برس کے دوران امریکی رائے کی شکل بدلنے والے عناصر میں سب سے اہم ہے‘۔

ارونگ کرسٹول نے انیس سو بیالیس میں گرٹرووڈ ہملفرب سے شادی کی جس سے ان کے دو بچے ولیم اور الزبتھ تھے۔