سابق فرانسیسی وزیراعظم پر مقدمہ شروع

فرانس کے سابق وزیرِاعظم ڈومینک دویلپاں پر صدر نکولا سرکوزی کو بدنام کرنے کی سازش کا مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔
سابق وزیراعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک عدالتی تحقیقات کو ایسا رخ دینے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں دو ہزار سات کے فرانسیسی صدارتی انتخاب میں نکولا سرکوزی کے صدر منتخب ہونے کے امکانات متاثر ہو سکتے تھے۔
اگر ڈومینک دویلپاں پر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں پانچ سال جیل کی سزا اور پینتالیس ہزار یورو یا اکتالیس ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنے کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کسی بھی غلط کاری کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کمرۂ عدالت میں داخل ہونے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہاں اس لیے ہوں کہ ایک آدمی اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے۔ میں یہاں اس لیے ہوں کہ ایک آدمی، نکولا سرکوزی جو فرانس کا صدر بھی ہے، اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے۔‘
گہرے رنگ کے سوٹ اور ٹائی میں ملبوس اور مطمئن دکھائی دیتے دویلپاں نے کہا ’میں اس سارے معاملے سے ایک آزاد اور تمام الزامات سے بری ہو کر باہر آؤں گا۔ مجھے علم ہے کہ سچ کی فتح ہو گی۔‘
یہ مقدمہ جسے فرانسیسی ذرائع ابلاغ ’دہائیوں کا مقدمہ‘ جیسی سرخیوں سے نمایاں کر رہے ہیں چار ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے اگر چہ اس کا فیصلہ آنے میں کچھ زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔
اس مقدمے کی سماعت نوٹرڈیم کیتھڈرل کے پہلو میں واقع پیلس ڈی جسٹس کے بڑے ایوان یا گرینڈ چیمبر میں ہو رہی ہے۔ سترہ سو ترانوے میں پیرس کا یہی کمرۂ عدالت تھا جہاں فرانس کے انقلابی ٹریبونل نے ملکہ ماغی آنتوانیت کو گِلوٹین کی سزا سنائی تھی۔
مقدمے کے گواہوں میں سابق وزیراعظم ژاں پی ایغ غفاغیں اور فرانس کے انٹیلیجنس ادارے کے سابق اور موجودہ سربراہ بھی شامل ہیں۔ اگرچہ موجودہ سربراہ صدر سرکوزی اس مقدمے میں مدعی بھی ہیں لیکن وہ گواہی کے لیے نہیں آئیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیراعظم دویلپاں پر جھوٹے الزامات کی ساز باز، دھوکے بازی کی ساز باز، مالِ مسروقہ کی وصولی اور اعتماد کی مجروہی کے الزامات ہیں جس کے بارے میں آئندہ ہفتے بیان دیں گے۔
یہ مقدمہ پانچ سال پرانے معاملے کے بارے میں ہے جب مسٹر سرکوزی کا نام سرکردہ سیاستدانوں اور تاجروں کی اُس فہرست میں شامل ہوا تھا جو اس وقت کے وزیراعظم مسٹر دویلپاں کو پیش کی گئی تھی۔ اس فہرست میں شامل لوگوں پر الزام تھا کہ انہوں نے اسلحے کے بین الاقوامی سودوں میں رشوت لی ہے۔
دو ہزار چھ میں ائرو سپیس یا ہوابازی کے شعبے کی مصنوعات بنانے والی کمپنی کے سابق نائب صدر ژاں لوئی گریگوریں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے عدالتی اتھارٹی کو ایک ایسی فہرست دی تھی جس میں ان کے باس فلپ ڈلماس کا نام بھی شامل تھا تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وہ یہ سب اس وقت کے وزیراعظم دویلپاں اور صدر ژاک شیراک کے احکام پر کر رہے تھے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب جج نے مذکورہ فہرست ہی کو جعلی قرار دے دیا تو لا محالہ توجہ اس بات پر گئی کہ ایسے لوگوں پر ایسے الزامات لگانے والوں کے پیچھے کون ہے۔
اب عدالت یہ جاننے کو کوشش کرے گی کہ کیا وہ آدمی دویلپاں تھے جو صدارتی انتخاب جیتنے کے امکانات رکھے والے سرکوزی کے لیے رسوائی کا باعث بننے والے الزامات کی مہم چلا رہے تھے۔
مسٹر دویلپاں سے اس سے پہلے دسمبر دوہزار چھ میں بھی نام نہاد ’کلئر سٹریم افیئر‘ کے سلسلے میں پوچھ گچھ ہو چکی ہے اور دو ہزار سات میں بھی ان کے خلاف تحقیقات جاری رہی ہیں۔
کلئر سٹریم افئر کا نام لگزمبرگ کے اس بینک سے آیا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ مذکورہ فہرست میں شامل افراد بشمول صدر سرکوزی کے اکاؤنٹ ہیں۔
صدر سرکوزی اور دویلیپاں صدر شیراک کے دور میں وزیر رہے ہیں لیکن دونوں کو ایک دوسرے کا کڑا حریف تصور کیا جاتا ہے۔



















