سب سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار: ایران

تاریخ بتاتی ہے جس ملک نے ایران سے دوستی رکھی اسے فاہدہ ہوا: ایرانی صدر
،تصویر کا کیپشنتاریخ بتاتی ہے جس ملک نے ایران سے دوستی رکھی اسے فاہدہ ہوا: ایرانی صدر
وقت اشاعت

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران مخلصانہ دوستی کے لیے بڑھائے جانے والے سب ہاتھوں سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر نے یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے اواخر میں دیا۔ جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران صدر احمدی نژاد نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ان کا نام لیے بغیر زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعے کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ان ملکوں کا ذکر کیا جو ان کے مطابق ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کو بنیاد بنا کر دوسری ملکوں کے ترقی کے عمل سے نقصان پہنچاتے ہیں۔

صدر احمدی نژاد کے اس بیان پر امریکہ اور فرانس سمیت کئی ملکوں کے وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

ایرانی صدر نے اسرائیل کو بھی فلسطین میں ’غیر انسانی‘ پالیسیاں اپنانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس سے پہلے نیویارک میں امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے انٹرویو میں ایرانی صدر نےامریکی صدر براک اوباما سے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے دوست سمجھے اور مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے بہت سے مواقع پیدا ہوں گے۔

ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان میں فوجی کارروائی سے مثبت نتائج کی کوئی توقع نہیں ہے۔

ایرانی صدرنے کہا کہ براک اوباما پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جو ایران کو ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براک اوباما کو تاریخ پڑھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’تاریخ بتاتی ہے جس نے بھی ایران سے دوستی کی اس کو بہت سے مواقع ملے۔ ایران دوسرے ملکوں کا دوست ہے۔‘

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے اور وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران ان سے ایٹمی ہتھیار کم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

ایران دنیا کے چھ اہم ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین سے جوہری پروگرام کے بارے میں بات چیت شروع کرنے والا ہے ۔ایرانی صدر نے کہا کہ وہ عالمی طاقتوں سے جوہری مذاکرات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی سودہ بازی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایران صدر نے کہا کہ وہ عالمی طاقتوں سے کہیں گے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کریں اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جس میں تمام ممالک پرامن مقاصدکے لیے جوہری پروگرام کو شروع کر سکیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان میں فوجی کارروائی کرنے سے افغانستان کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی مدد مل سکتی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران افغانستان میں امن کے قیام کے لیے تعاون کرنے کا خواہاں ہے لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ موجودہ حالات میں ایران افغانستان میں کوئی کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ایسے ڈرائیور کی ماند ہیں جو کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایران میں انتخابات کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں مرنے والے کے حوالے سے محمود احمدی نژاد نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ایسا ہوا ہے لیکن ایرنی حکومت ان اموات کی ذمہ دار نہیں ہے۔

ایرانی صدر نے کہا انتخابات کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں اموات کے ذمہ دار حزب اختلاف کے رہنما اور مغربی ممالک کے کچھ سیاستدان ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران سے کہا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی خدشات کو دور کرے۔

مبصرین کے مطابق امریکہ نے یورپ میں دفاعی شیلڈ کے پروگرام کو ختم کر کے روس کا ایک ایسا مطالبہ تسلیم کیا ہے جس کے بعد وہ روس سے توقع کر سکتا ہے کہ وہ ایران کی حمایت میں کمی کرے۔