سابق عثمانی شہزادے چل بسے

ائرتورل عثمان
،تصویر کا کیپشنائرتورل عثمان آخری عثمانی سلطان کے آخری پوتے تھے
وقت اشاعت

صدیوں تک ترکی پر فرمانروائی کرنے والے عثمانی خلفاء کے آخری جانشین کا گزشتہ شام استنبول کے اسی شہر میں انتقال ہوگیا جو کبھی تین براعظموں پر پھیلی اس عظیم سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ ارطغرل عثمان سلطنت کے ختم نہ ہونے کی صورت میں ترکی کے عثمانی سلطان ہوتے۔

ارطغرل عثمان ترکی کے آخری سلطان عبدالحمید دوم کے پوتے تھے۔ ان کی عمر ستانوے سال تھی اور وہ کمال اتاترک کے ہاتھوں عثمانی خلافت کے خاتمے اور ترک جمہوریہ کے قیام کے بعد سے امریکہ میں مقیم تھے۔

ارطغرل عثمان انیس سو بارہ میں استنبول میں پیدا ہوئے تھے اور انیس سو تئیس میں سلطنت کے خاتمے کے وقت وہ آسٹریا کے شہر ویانا میں ایک اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ انہیں ویانا میں یہ خبر ملی کہ اتاترک نے ان کے خاندان کے تمام افراد کو جلا وطن کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی بیشتر زندگی امریکہ کے شہر نیو یارک میں گزری جہاں ساٹھ برس تک وہ ایک ریستوران کے اوپر کی منزل میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہے۔

عبدالحامد دوم ترکی کے آخری سلطان تھے
،تصویر کا کیپشنعبدالحامد دوم ترکی کے آخری سلطان تھے

ارطغرل عثمان ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں تھے اور وہ انیس سو نوے تک ترکی واپس نہیں لوٹے۔ وہ ترک حکومت کی دعوت پر واپس گئے تھے لیکن انہوں نے تب بھی کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں قبول کیا۔ جب وہ اپنے خاندان کے سابق محلات دیکھنے گئے تو وہ بھی سیاحوں کے ایک گروپ میں شامل ہو کر اپنے آباؤاجداد کی سابق رہائش گاہیں دیکھتے رہے۔ یہ وہی محل تھا جہاں ان کا اپنا خاندان بھی رہتا تھا اور جہاں ان کا بچپن گزرا۔

ان کے سوگواروں میں ان کی اہلیہ زینب شامل ہیں جو افغانستان کے آخری شاہ امان اللہ خان کی بھی رشتہ دار ہیں۔