ایران ’خفیہ‘ پلانٹ کے معائنے کے لیے تیار

ایران اقوام متحدہ کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کو افزودہ کرنے کا خفیہ پلانٹ لگا رہا ہے: امریکہ، برطانیہ، فرانس
،تصویر کا کیپشنایران اقوام متحدہ کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کو افزودہ کرنے کا خفیہ پلانٹ لگا رہا ہے: امریکہ، برطانیہ، فرانس
وقت اشاعت

ایران کےصدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران اپنے دوسرے جوہری پلانٹ کو اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کی نگرانی کے لیے کھول سکتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ قم کے قریب یہ جوہری مرکزی اقوام متحدہ کے ضوابط کے تحت بنایا جا رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ جوہری پلانٹ ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔

ایران نےدوسرے جوہری پلانٹ کا انکشاف جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے نام ایک خط میں ہفتۂ رواں کے آغاز پر کیا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> ہمارے پاس ایک اور جوہری پلانٹ بھی ہے: ایران</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/09/090925_iran_enrichment_2.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ایران کو امریکہ، فرانس اور برطانیہ کا انتباہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/09/090925_iran_reaction.shtml" platform="highweb"/></link>

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کو افزودہ کرنے کا خفیہ پلانٹ لگا رہا ہے۔

ایران صدر احمدی نژاد جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہیں ، کہا کہ جو رہنما ایران کے دوسرے جوہری پلانٹ پر شور مچا رہے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور ان کو مایوسی ہوگی۔’اوباما جوہری ماہر نہیں ہیں اور ہمیں کچھ معاملات آئی اے ای اے پرچھوڑنے ہوں گے۔‘

ایران صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ عالمی ضوابط کے تحت لازم ہے کہ کوئی ملک اپنےجوہری پلانٹ میں نیوکلیائی مواد کے شامل کرنےسے چھ ماہ پہلے اس کو ڈیکلیئر کرے۔

ایران صدر نے کہا کہ جیسے مغربی رہنما کہہ رہے کہ ایران کا جوہری پلانٹ خفیہ تھا اگر ایسا ہوتا تو ایران اس کو کیوں ڈیکلیئر کرتا۔

ایران کے صدر نے کہا کہ جوہری ہتھیار انسانیت کے لیے خطرہ ہیں اور ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔

ایران نے ماضی میں یہ تسلیم کیا تھا کہ اس کے پاس یورنیم کی افزودگی کےلیے صرف ایک پلانٹ ہے جو نتانز کے مقام پر ہے اور عالمی ادارے کے انسپکٹر آج کل اس کا معائنہ کر رہے ہیں۔

ایران کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے اقوامِِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں عائد ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر یورینیم کی ہر قسم کی افزودگی روک دی ہے۔

ایران کی جانب سے دوسرے پلانٹ کا انکشاف اس کے متنازع جوہری پروگرام کے بارے میں نئے مذاکرات کے آغاز سے چند دن قبل ہوا ہے۔ یہ مذاکرات جینیوا میں پہلی اکتوبر سے ہوں گے جن میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان یعنی امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس کے علاوہ جرمنی بھی شامل ہے۔

صدر براک اوباما نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اس بحران پر پیشرفت نہیں ہوتی تو ایران کو کڑی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔ روس نے حال ہی میں اشارتاً کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی مخالفت میں نرم لائے گا۔

عالمی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ اسے پیر کو ایران کا خط موصول ہوا جس میں ادارے کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایک ’ایندھن کی افزودگی کا ایک نیا پائلٹ پلانٹ زیرِ تعمیر ہے‘۔ ایران نے عالمی ادارے کو بتایا ہے کہ ’اس پلانٹ میں جوہری مودا سے متعلق کوئی کام نہیں کیا گیا اور یورنیم کی افزودگی صرف اسی حد تک ہوگی جس سے بم نہیں بلکہ ایندھن تیار کیا جا سکے۔‘

جواب میں عالمی ادارے نے ایران سے درخواست کی ہے کہ وہ ’جلد از جلد اس پلانٹ تک انسپکٹروں کی رسائی ممکن بنائے اور اس کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرے۔‘

کچھ دن قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی اہلکاروں سے بات کرنے کے بعد لکھا تھا کہ یہ خفیہ جگہ جو قم کے قدیمی شہر میں ایک پہاڑ کے اندر بنائی گئی ہے ابھی مکمل نہیں ہے لیکن اگلے برس اسے کام میں لایا جا سکے گا

اخبار نے کہا تھا کہ اس پلانٹ میں تین ہزار سینٹری فیوجز سموئے جا سکتے ہیں۔ ان سینٹری فویجز سے بجلی پیدا کرنے کے لیے یورنیم افزودہ کیا جا سکتا ہے اور اگر یورنیم کی افزودگی مزید عمدگی سے کی جائے تو پھر اس عمل سے حاصل ہونے والے مواد سے نیوکلیر بم تیار کیا جا سکتا ہے۔