سب سے بااثر کتابوں کی فہرست

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسلمان رشدی کی کتاب سیٹنک ورسز پر زبردست تنازعہ ہوا تھا۔
وقت اشاعت

ادبی میگزین وسافاری کی ایک فہرست کے مطابق سلمان رشدی کے ناول ' سٹینک ورسز'، ولادیمیر نبوکو کے ' لولیتا' اور گیبریل گارشیا مارکیز کی 'ہنڈریڈ ائيرز آف سولیٹیوڈ' کو گزشتہ 25 برس میں ادب کی دنیا میں شائع ہونی والی سب سے با اثر کتابیں قرار دیا گيا ہے۔

وسافاری نے دنیا کے 25 مقبول ترین ادبیوں سے اس فہرست کے لیے بہترین کتابوں کو منتخب کرنے کی دعوت دی تھی۔ ان ادیبوں میں امت چودھری، بلیک موریسن اور اندرا سنہا شامل تھیں۔

مارکیز کی ' ہنڈریڈ ائیرز آف سولیٹیوڈ' واحد ایسی کتاب تھی جسے ایک سے زیادہ ادیب ججوں نے منتخب کیا۔

کتابوں کی فہرست وسافاری کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر تیار کی گئی ہے۔

ہنڈریڈ ائیر آف سولیٹیوڈ کو نائجریئن ناول نگار چیکا انگووے، گھانا کے شاعر نی پارکیس اور انڈین شاعر سجاتا بھٹ نے بہترین کتابوں کے فہرست کے لیے منتخب کیا تھا۔

انگووے کے مطابق ' مارکیز نے زندگی کی سچائی دیکھنے کے نظریے کو بدل دیا ہے'۔

انکا مزید کہنا تھا میرا ایسا ایک بھی ادیب دوست نہیں ہے جو اپنی تحریز میں مارکیز سے متاثر نہیں ہے۔

ہنڈریڈ ائیرز آف سولیٹیوڈ سے پہلے ہسپانوی زبان میں 1967 میں شائع ہوا تھا۔ یہ ناول ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے کہ جو ایک افسانوی گاؤں میں زندگي بتانے کی کوشش کررہا ہے۔ مارکیز اپنے لکھنے کے لیے انداز ؛میجیکل ریئلزم ؛ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان رشدی انکے اس ادبی انداز سے بے حد متاثر ہوئے اس لیے انہوں نے اپنے ناول 'مڈ نائٹ چلڈرن ' میں یہی انداز اپنایا۔ مارکیز کو دنیا کے سب سے اہم ترین ادیبوں میں مانا جاتا ہے جنہوں نے اپنے سبھی افسانوں اور ناولوں میں کہانی بیان کرنے کا وہ انداز زندہ رکھا ہے جس سے پڑھنے والے لطف اٹھاتے رہے ہیں۔

ولادیمیر نباکو کا ناول 'لولیتا' انگریزی میں لکھا گیا تھا جو 1955 میں پہلی بار پیرس میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد خود نباکو نے 1958 میں اسے روسی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ کتاب اپنے تجرباتی کہانی کہنے کے سٹائل اور متنازعہ موضوع کے لیے مشہور ہے۔ کتاب کی کہانی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی عمر سے بہت کم لڑکی ڈولوریس ہیز کے عشق میں مبتلا ہے اور اسکے ساتھ جنسی رشتہ بناتا ہے۔ ٹائم میگزین نے اس ناول کو 1923 سے 2005 کے درمیان شائع ہونے 100 بہترین ناولوں کی فہرست میں رکھا ہے۔

جن ديگر کتابوں کو وسافاری کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ان میں امریکی صدر باراک اوباما کی کتاب ' ڈریمز فروم مائی فادر' کے علاوہ ٹیڈ ہیوز، وی ایس نائپول، جے ایم کٹزی کے کتابیں شامل ہیں۔

اس فہرست میں سلمان رشدی کی ' سٹینک ورسز' بھی شامل ہے۔ سٹینک ورسز رشدی کا چوتھا ناول تھا جو 1988 میں شائع ہوا۔ سیٹنک ورسز کے منظر عام پر آنےکے بعد کتاب کے موضوع کو لیکر زبردست تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ مسلم ورلڈ نے کتاب کو ' توہین اسلام' قرار دیا اور ہندوستان پہلا ملک تھا جس نے اس کتاب پر پابندی عائد کی تھی۔ بعد میں برطانیہ، ایران، اور دنیا کے مختلف ممالک پر کتاب پر پابندی کے مطالبات ہوئے تھے۔