’ایران دو ہفتوں میں رسائی فراہم کرے‘

ایران کے مذاکراتِ کار سعید جلیلی
،تصویر کا کیپشنایران کی جانب سے جلد ایکشن کی امید کرتے ہیں اور اگر ایران مستقبل میں ضروری اور مناسب اقدامات نہیں کرتا ہے تو امریکہ بھی ہمیشہ مذاکرات پر زور نہیں دیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ برداشت کرنے کی ایک حد ہوتی ہے: براک اوباما
وقت اشاعت

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران دو ہفتوں کے اندر اندر، اقوامِِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو قُم میں جوہری پلانٹ تک بغیر کسی قدغن اور روک ٹوک کے رسائی فراہم کرے۔

جنیوا میں ایرن اور اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل ارکان (اور جرمنی) کے درمیان کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جوہری مذاکرات کے اختتام پر امریکی صدر نے انہیں ’تعمیری ابتدا‘ قرار دیا اور کہا ہے اب ایران کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔

جمعرات کو جینوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایران قم میں اپنا دوسرا جوہری پلانٹ عالمی معائنے کے لیے کھولنے پر رضا مند ہوگیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران عالمی ادارے کے انسپکٹروں کو اس پلانٹ کا معائنہ دو ہفتے کے اندر اندر کروا دے۔

مذاکرات کے بعد امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو یہ اعتماد بحال کرنے کے لیے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے رہےگا، ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر ایران امریکہ اور دیگر ممالک کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کو مثبت قرار دیا۔

لیکن صدر اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ جینوا میں ہونے والے ان مذاکرات کے بعد ایران کی جانب سے اب مزید اہم اقدامات درکار ہیں۔

جنیوا بات چیت پر واشنگٹن ميں ایک نیوز کانفرنس میں امریکی صدر نے ان مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ایران کی جانب سے تیز رفتار اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ اب ایران پوری طرح تعاون کے لیے تیار ہو گیا ہے اس لیے آئندہ دو ہفتوں ميں اسے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو معائنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔

باراک اوباما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ایران کی جانب سے جلد ایکشن کی امید کرتے ہیں اور اگر ایران مستقبل میں ضروری اور مناسب اقدامات نہیں کرتا ہے تو امریکہ بھی ہمیشہ مذاکرات پر زور نہیں دیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ برداشت کرنے کی ایک حد ہوتی ہے۔

جمعرات کو جینیوا میں کئی گھنٹوں تک ہونے والی بات چیت میں ایران، اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے نمائندے شامل تھے۔ مذاکرات کا خاتمہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ہوا۔

مذاکرات کے دوران ایران پہلے سے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ تہران کے ایک چھوٹے ریسرچ ری ایکٹر ميں لانے سے قبل یہ مادہ ایندھن میں تبدیل کیا جائے گا۔

ایران کے جوہری امور پر مذاکرات کار سعید جلیلی کا کہنا تھا کہ آج انھوں نے یہ مذاکرات ایک مثبت سوچ کے ساتھ شروع کیے ہیں۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ اگلے مہینے اس بات پر بھی اتفاق رائے ہو جائے کہ کس طرح اس بات چیت کو جاری رکھا جائے تاکہ تعاون ایک سچائی ایک حقیقت بن سکے۔

ادھر ایران کے وزير خارجہ منوچہر متّقی کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران ایک سربراہی کانفرنس منعقد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔