’نئی افغان پالیسی پر صورتحال واضح نہیں‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے پاکستان کی صورتحال پرقومی سلامتی کے اعلٰی مشیروں سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب افغانستان میں امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔
صدر اوباما کی افغان ’جنگی کونسل‘ نے اجلاس میں پاکستان کی صورتحال پر غور کیا ہے۔
ایک امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تین گھنٹے طویل اجلاس میں توجہ پاکستان کی صورتحال پر مرکوز رہی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اسلام آباد کے ساتھ تعاون میں اضافے اور اسے کس طرح جاری رکھا جائے اور القائدہ کی شکست، خاتمے کے حوالے سے جائزہ لیا گیا ہے۔
افغانستان میں بین الاقوامی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلے میکرسٹل جنہیں صدر اوباما نے وہاں تعینات کرتے وقت افغان پالیسی میں نظر ثانی کی ہدایت کی تھی انہوں نے حالیہ دنوں افعانستان میں حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کے حوالے سے اپنی رپورٹ صدر براک اوباما کو پیش کی ہے۔
پینٹاگون نے بھی باضابطہ طور پر افغنستان میں مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی ہے اور اطلاعات کے مطابق زیادہ سے زیادہ مزید چالیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی تجویز وائٹ ہاؤس کو دی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کی اتحادیوں کے ساتھ ملکر افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے اور القائدہ کے خلاف مہم کے آٹھ سال بعد بھی افغانستان ایک خطرناک جگہ ہے۔ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج اور شہریوں پر خودکش حملے اور سٹرک کنارے نصب بم دھماکے عام ہیں۔اس کے علاوہ طالبان کی افغانستان کے بہت سارے علاقوں پر عمل داری قائم ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور اجلاس جمعہ کو ہوگا جس میں صرف افعانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق جنرل سٹینلے میکرسٹل نے افغان حکمت عملی میں تبدیلی کے حوالے سے جو رپورٹ صدر براک اوباما کو پیش کی ہے اس میں مزید فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی تجویز شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب منظر عام پر آنے والی چند اطلاعات کے مطابق صدر اوباما نے افغنستان میں مزید فوجیوں کی تعیناتی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے یا افغانستان کے حوالے سے امریکی کوششوں کو محدور کرنے کا کہا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ تیزی سے غیر مقبول ہوتی جنگ میں تیزی لانے کی منظوری دیتے ہیں یا نہیں۔ صدر اوباما کے ترجمان کے مطابق صدر اوباما جنرل میکرسٹل کی جانب سے مزید فوجیوں کی تعیناتی کی درخواست پر غور رواں ہفتے کے اختتام پر کریں گے۔لیکن فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے پہلے نئی افغان پالیسی کو طے کرنا لازمی ہو گا۔
نیشنل سکیورٹی کونسل کے حالیہ اجلاس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اس میں حکومت کے اعٰلی حکام کے علاوہ فیلڈ کمانڈرز اور خطے کے سفیر شریک ہونگے۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک مارڈیل کے مطابق افغانستان کے متعلق نئی پالیسی کے حوالے سے جنجھلاہٹ میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں کبھی یہ تاثر ملتا ہے کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور کبھی یہ کہ ان کی تعداد میں کمی کی جا رہی ہے۔
جنرل کرسٹل کے مشیر انتھونی کوڈزمین نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ صورتحال جس طرح بیان کی جا رہی ہے اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔’ اس میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ افغانستان میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے، وہاں ٹھہرنے کے لیے کتنا عرصہ درکار ہو گا، نیٹو اور اتحادی افواج سے کس طرح معاملات چلائے جائیں، ترقیاتی منصوبوں کو کیسے چلایا جائے اور مستقبل میں افغان حکومت کی کیا شکل ہو گی۔‘
افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لینے کا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے افغان انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
افغانستان کے صدارتی انتخاب کا ریکارڈ وہاں تعینات اقوام متحدہ کے سربراہ کائی ایڈی نے خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اس ریکارڈ سے سب سے زیادہ متاثر افغان صدر حامد کرزائی ہوئے ہیں۔ جنہوں نے حالیہ انتخاب میں بعض صوبوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی اصل تعداد سے کئیں ہزار زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اگست میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے دن سے ہی دھاندلیوں ، اختیارات کا ناجائز استعمال اور فراڈ کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے بعد رواں سال کے اختتام تک وہاں امریکی فوج کی تعداد اڑسٹھ ہزار تک ہونی چاہیے۔



















