نیو یارک: مسلمانوں کا احتجاج

مظاہرے کو جنوبی ایشیائي تارکین وطن کے شہری ح‍قوق کی تنظیم ’دیسِیز رائيزنگ اپ اینڈ موونگ‘ (یعنی ڈرم) نے منظم کیا ہوا تھا
،تصویر کا کیپشنمظاہرے کو جنوبی ایشیائي تارکین وطن کے شہری ح‍قوق کی تنظیم ’دیسِیز رائيزنگ اپ اینڈ موونگ‘ (یعنی ڈرم) نے منظم کیا ہوا تھا
    • مصنف, حسن مجتیٰ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام نیویارک
  • وقت اشاعت

نیویارک میں پچھلے ماہ پولیس اور ایف بی آئي اے کے افغان شہریوں کے گھروں پر مبینہ چھاپوں اور مسلمانوں کے خلاف مبینہ نسلی پروفائیلنگ کے خلاف سینکڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں نے مظاہرہ کیا ہے جس میں اکثریت جنوبی ایشیائي ملکوں سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔

اس احتجاجی مظاہرے میں اس افغان شہری نیاز خان نے بھی شرکت کی ہے جو امریکی حکام کی طرف سے حال میں نیویارک میں دہشتگردی کی مبینہ سازش میں گرفتار نجیب اللہ زازی کو اپنے گھر ٹھہرانے کے اور اس سے مبینہ تعلق کے الزام میں زیر تفتیش رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے میں کے موقع پر پریس کانفرنس میں تارکین وطن اور جنوی ایشیائي کیمونٹی اور مسلم مذہبی رہنمائوں نےامریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نیویارک میں افغانوں سمیت مسلم کمیونٹی کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے۔

پریس کانفرنس میں علاقے سے تعلق رکھنے والے کئی مقررین نے الزام لگائےکہ نہ ہم جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد جاسکتے ہیں نہ محلے میں آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں کیونکہ ہم پر پولیس اور دیگر اداروں کی ہر وقت بے جا چوکسی لگي ہے۔ ہمیں ایک خاص مذہب و نسل س تعلق رکھنے کے بنا پر غلط طور پر دہشتگرد بنا کر پیش کیا جارہا ہے‘

ہراساں کیےجانے کی شکایت کرنے والے نیاز خان، جو حالیہ دنوں ایف بی آئي کے زیر تفتیش رہے ہیں کا پریس کانفرنس میں میڈیا سے کہنا تھا ’مجھ سے مسلسل پوچھ گچھ کی جاتی رہی ہے، میں روزگار نہیں کما سکتا کیونکہ میرے تفتیش میں نام آنے کے بعد کوئي کام نہیں دیتا، میں اپنے دوستوں کو عید مبارک نہیں کہہ سکتا۔ نہ ہی آئندہ آنے والی عید الاضحی منانے پاکستان جا سکتا ہوں جہاں میرے بیوی اور بچے رہتے ہیں۔‘

نیاز خان حال میں گرفتار ہونے والے افغان شہری نجیب اللہ زازی سے مبینہ تعلق اور اس کی مبینہ میزبانی کےحوالے سے ایف بی آئي کی زیرتفتیش آئے ہیں۔ امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نجیب اللہ زازی، ان کے والد اور مقامی مسجد کے پیش امام کو گيارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد امریکہ اور نیویارک میں مبینہ ’بڑي دہشتگردی کی سازش‘ جوڑنے اور اس میں مبینہ شریکِ جرم ہونے کےالزام میں گزشتہ ماہ گرفتار کیا تھا۔

نجیب اللہ زازی کی مبینہ دہشتگردانہ منصوبے سے تعلق کے مبینہ شبہ میں پولیس اور ایف بی آئي نے نیو یارک میں افغان تارکین وطن اور دیگر جنوبی اشیائيوں کے گھروں پر چھاپے مارے تھے۔ گزشتہ ماہ سے نیاز خان ان کا اپارٹنمینٹ، اپارٹمنیٹ بلڈنگ اور اس سے متصل محلہ اور اسکی گلیاں امریکی قانون نافذ کرنے والوں اور میڈیا کی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے نجیب اللہ زازی پر مبینہ طور پاکستان کے شورش زدہ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں دہشتگردی کے تربیتی کمیپ میں تربیت لینے کا الزام ہے۔

سابق امریکی فوجیوں کی جنگ مخالف تنظیم ’ویٹرنز فار پِیس‘ نے بھینسلی پروفائلنگ کے خلاف ڈرم کے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا
،تصویر کا کیپشنسابق امریکی فوجیوں کی جنگ مخالف تنظیم ’ویٹرنز فار پِیس‘ نے بھینسلی پروفائلنگ کے خلاف ڈرم کے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا

نیویارک کے کوینز میں فلشنگ کے سے چند سو گز کے فاصلے پر یہ احتجاجی مظاہرہ نیچر کی دوپہر ہوا۔مظاہرے کو جنوبی ایشیائي تارکین وطن کے شہری ح‍قوق کی تنظیم ’دیسِیز رائيزنگ اپ اینڈ موونگ‘ (یعنی ڈرم) نے نہایت ہی منظم کیا ہوا تھا۔ تاہم ڈرم کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر مونامی مائولک نے واضح کیا کہ کہ انکا مظاہرہ کسی ایک خاص کیس کے فرد یا گروپ کے حق میں نہیں بلکہ عام طور پر نیو یارک میں تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف مبینہ نسلی اور مذہبی پروفائلنگ کے خلاف احتجاج ہے۔

ڈرم کے مونوگرام کی سرخ ٹی شرٹوں میں اکثر ملبوس مرد، خواتین اور بچـوں نے نعروں کی تحریری کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر نمایاں طور لکھا تھا ’نسلی پروفائلنگ قابل قبول نہیں‘، ’ایف بی آئي ہماری کیمونٹی سے باہر ہو‘ اور ’مذہبی پروفائلنگ نامنظور۔‘

سنیچر کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں میں مختلف ممالک، نسلوں اور مذاہب و لامذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں اکثریت جنوبی اشیائيوں کی تھی۔اس کے علاوہ افریقی نژاد امریکی مسلمانوں اور لاطینی امریکی تارکین طن کی بھی ایک تعداد موجود تھی۔ مظاہرے میں سابق امریکی فوجیوں کی جنگ مخالف تنظیم ’ویٹرنز فار پِیس‘ جو ہر اختتام ہفتہ پر فلشنگ لائبریری کی اسی جگہ مظاہرہ کرتی ہے کے شرکاء بھی نسلی پروفائلنگ کے خلاف ڈرم کے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرے میں شامل ہوگۓ۔

ڈرم (دیسیسز رائيزنيگ اپ ینڈ موونگ) جنوبی اشیائي تارکین وطن کی تنظیم ہے جو تارکین وطن مزدوروں اور ٹیھلے والوں کے حقوق کے لیے نیویارک کے کوئیز کے علاقے میں بھی سرگرم ہے۔

مظاہرے کے دوران امریکی اور بین لاقوامی میڈیا کی شرکت سے پرہجوم پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مقامی مسلم کمیونٹی رہنما امام ایوب عبدالباقی نے کہا کہ وہ ہر قسم کی دہشتگردی، چاہے وہ پھر عیسائی بنیاد پرستوں کی طرف سے ہو یا یہودی بنیاد پرستوں کی طرف سے، یا پھر مسلمان بنیاد پرستوں کی جانب سے وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا دہشتگردی ریاستی ہو کہ غیر ریاستی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔

پریس کانفرنس سے ڈرم کی آرگنائزر عا‏ئشہ محمود نے خطاب میں الزام لگایا کہ حال میں کوینز کے علاقے فلشنگ میں چھاپوں کے دوران اور بعد تا حال پولیس نے مسلمانوں اور تارکین وطن کو ہراساں کر رکھا ہے اور آتے جاتے ان سے بے جا پوچھ گچھ اور انکے علاقے کا غیر سرکاری طور محاصرہ کر رکھا ہے۔ عائشہ محمود نے کہا کہ مسلمان دہسشتگرد نہیں ہیں اور ان کا ایسا تصور محض پہلے سے بنائي ہوئی غلط خام خیالی یا سٹیریو ٹائیپنگ ہے۔

پریس کانفرنس سے ڈرم کی نوجوان رکن یاسمین میاں نے خود ان کے اور دیگر مسلم ٹین ایجرز کے خلاف روا رکھی جانے والی نسلی پروفائلنگ بیان کی۔ پریس کانفرنس سے مسلم کنسلٹیٹو گروپ کے سر پر سرخ ترکی ٹوپی پہنے ایڈم کیرول نے بھی خطاب کیا۔

لاطینی تاریک وطن مزدور رہنما روڈریگیز نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نسلی پرفائیلنگ کا مسئلہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں یہ تارکین وطن کا مسئلہ ہے اور لاطینیوں کا مسئلہ بھی ہے اور اسکے خلاف سب کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔