عراقی نہیں چاہیئں، برطانوی طیارہ واپس

عراق نے برطانیہ کی طرف سے ملک بدر کیے گئے تیس عراقی پناہ گزینوں کو بغداد میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد وہ برطانیہ واپس پہنچ گئے ہیں۔
جمعرات کو برطانوی حکومت نے ایک خصوصی جہاز کے ذریعے ان چالیس افراد کو بغداد روانہ کر دیا جو برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ بغداد نے ان میں سے صرف دس پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے عراقی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
برطانیہ نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کی واپسی کا انحصار عراقی حکام پر ہے۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بغداد کے داخلے کی اجازت کے فیصلے کی اصل وجہ کیا تھی لیکن کہا جا رہا ہے کہ مسافروں کے پاس پوری دستاویز نہیں تھیں۔
انسان حقوق کے گروہ ’ریفیوجی اینڈ مائگرینٹ جسٹس‘ نے کہا ہے کہ پہلے کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔
’ریفیوجی اینڈ مائگرینٹ جسٹس‘ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گزین اب گیٹ وک کے ہوائی اڈے کے نزدیک بروک ہاؤس حراستی مرکز میں ہیں جہاں انہیں قانونی مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنا اہم قدم اٹھانے سے پہلے وزارتِ داخلہ کو عراقی حکام سے معاملات حل کر لینے چاہئیں تھے۔
یہ سن دو ہزار دو میں جنگ کے آغاز کے بعد بغداد میں عراقیوں کی پہلی واپسی ہونا تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ کے بعد اس کی طرف سے بیرونِ ملک بھیجے گئے اسی ہزار سے زائد عراقی پناہ گزینوں میں سے صرف تیس ہزار کو مہمان ممالک نے قبول کیا ہے۔ ادارے کے مطابق شام اور اردن میں موجود بیس لاکھ کے لگ بھگ عراقی پناہ گزین تاحال مستقل رہائش گاہوں سے محروم ہیں۔



















