’پیشرفت تو ہے مگر رفتار سست ہے‘

منگل کو مذاکرات کا دوسرا دور تھا جو دن کے زیادہ تر حصے میں رکا رہا کیونکہ ایران نہیں چاہتا تھا کہ فرانس معاہدے کا شریک بنے۔ تاہم منگل کی شام یہ مذاکرات شروع ہوگئے۔
،تصویر کا کیپشنمنگل کو مذاکرات کا دوسرا دور تھا جو دن کے زیادہ تر حصے میں رکا رہا کیونکہ ایران نہیں چاہتا تھا کہ فرانس معاہدے کا شریک بنے۔ تاہم منگل کی شام یہ مذاکرات شروع ہوگئے۔
وقت اشاعت

جوہری توانائی کے عالمی ا دارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ یورینیم کی افژودگی کے سلسلے میں معاہدے کے لیے مذاکرات سست روی کا شکار ہو گئے ہیں۔

عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد منگل کو کہا کہ کہا اس سلسلے میں کئی تکنیکی معاملات کا تجزیہ ضروری ہے لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ بات چیت میں جس پیشرفت کی توقع تھی ویسا نہیں ہوا۔ تاہم البرادعی کا کہنا تھا کہ پھر بھی پیش رفت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

منگل کو مذاکرات کا دوسرا دور تھا جو دن کے زیادہ تر حصے میں رکا رہا کیونکہ ایران نہیں چاہتا تھا کہ فرانس معاہدے کا شریک بنے۔ تاہم منگل کی شام یہ مذاکرات شروع ہوگئے۔ مذاکرات بدھ کو بھی جاری رہیں گے۔

ایران اس تجویز پر غور کر رہا ہے کہ وہ یورینیم افژودگی کے لیے کسی دوسرے ملک بھیج دے اور بعد میں اپنے ملک میں اسے واپس منگا لے۔ اس سے ایران کو ضروری ایندھن دستیاب رہے گا اور مغربی ممالک کو یہ ضمانتیں بھی مل جائیں گی کہ یہ یورینیم جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال نہیں ہو رہا۔

منگل کو مذاکرات میں ایران کے وفد کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کے نمائندے بھی شریک تھے۔ یہ مذاکرات اس وقت خطرے میں پڑ گئے جب ایران نے کہا کہ وہ یورینیم کی افژودگی کا مسئلہ حل کرنے کو تیار ہے لیکن چاہتا ہے کہ فرانس اس معاہدے میں شریک نہ ہو۔

تاہم اس عارضی تعطل کے بعد تمام فریق مذاکرات کی میز پر لوٹ آئے۔لیکن اس سے قبل ایران اور امریکہ کے نمائندوں نے البرادعی کے دفتر میں علیحدہ ایک ملاقات کی۔اس ملاقات کی تفیصلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا ’ مجھے یقین ہے کہ ہماری بات چیت میں پیشرفت ہو رہی ہے ۔ ہوسکتا ہے اس کی رفتار سست ہو لیکن بہرحال ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے اور اس میں کئی تکنیکی مسائل ہیں اور ساتھ ہی بحالیِ اعتماد کے لیے کچھ ضمانتیں بھی چاہئیں۔

گزشتہ روز ایران کی جوہری توانائی کی ایجنسی کے ترجمان نے بھی مذاکرات سے قبل یہ کہا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں نہیں ہوگا کہ تہران یورینیم کی افژودگی کی سرگرمیاں ترک کر دے گا۔تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ویانا میں مذاکرات ناکام ہوگئے تو ایران پہلے سے بھی بہتر اور بلند سطح پر یورینیم کی افژودگی شروع کر دے گا۔