چین کی معاشی ترقی میں تیزی

چین میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک اس سال آٹھ فیصد شرح نمو کا سالانہ ہدف حاصل کر لے گا۔
یہ گزشتہ تین ماہ کے دوران حاصل ہونے والی سات اعشاریہ نو فیصد کی شرح سے زیادہ ہے اور گزشتہ سال کے تیسرے کوراٹر میں حاصل ہونے والے آٹھ اعشاریہ نو کی شرح کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی دو علیحدہ علیحدہ رپورٹوں کے مطابق ستمبر کے مہینے میں صنعتی پیداوار اور پرچون سیلز کی شرح میں بھی تیزی آئی ہے۔
چین میں جنوری اور ستمبر تک نو ماہ کے عرصے میں معاشی ترقی کی شرح سات اعشاریہ سات فیصد رہی۔
سال دو ہزار آٹھ کے اختتام پر چین کی حکومت نے معاشی ترقی کی رفتار میں تیزی لانے کے لیے تین سو چون ارب پاؤنڈ کے برابر معاشی پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں سڑکوں اور ریلوے لائنوں سمیت انفراسٹرکچر کے منصوبے شامل تھے۔ اس پیکیج کا مقصد برآمدات میں کمی کی وجہ سے ابتری کا شکار ہونے والے معیشت کو سہارا دینا تھا۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یہ انویسمنٹ جو جی ڈی پی میں نمو کا اٹھاسی فیصد بنتا ہے چین کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
فیکٹریوں، تعمیرات اور اس نوعیت کے دیگر غیر منقولہ اثاثوں میں ہونے والی انویسٹمنٹ میں نو ماہ کے دوران ایک تہائی اضافہ ہوا ہے جو ایک سو پچپن کھرب یوان تک پہنچ گئی۔
چین کی کار مارکیٹ دنیا سب سے بڑی کار مارکیٹ ہو گئی ہے جس میں گزشتہ نو ماہ میں چونتیس فیصد اضافہ ہوا اور فروخت ہونے والی کاروں کی تعداد چھیانوے لاکھ ساٹھ ہزار ہو گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین کے قومی شماریات بیورو کے مطابق ملک میں پرچون سیلز میں سال کے پہلے تین ماہ میں پندرہ اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔



















