’ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ ہے‘

جرمنی میں دولتمند لوگوں کے ایک گروپ نے اپنی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ امیر لوگوں پر زیادہ ٹیکس لگائے۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ پیسہ ہے اور حکومت ٹیکس بڑھا کر اس پیسے سے نئے اقتصادی اور سماجی پروگرام شروع کر سکتی ہے جس سے معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دو سال تک ملک کے امیر ترین لوگوں پر پانچ فیصد زیادہ ٹیکس لگا کر ایک سو ارب یورو کما سکتی ہے۔
درخواست پر چوالیس لوگوں نے دستخط کیے ہیں اور یہ جلد ہی ملک کی دوبارہ منتخب ہونے والی چانسلر اینگلا میرکل کو پیش کی جائے گی۔
اس گروپ کا کہنا ہے کہ ملک میں اقتصادی بحران سے بیروزگاری، غربت اور سماجی عدم مساوات بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عطیات سے حل ہونے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے سے نمٹنے کے بارے میں سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ بحران سے واپسی کا راستہ ماحول، تعلیم، سماجی انصاف میں بھاری سرمایہ کاری سے ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو دولت محنت، ورثے میں یا ذہانت سے کاروبار چلانے کے نتیجے میں ملی ہے انہیں چاہیے کہ وہ اقتصادی بحران سے نکلنے کی کوشش میں اپنا حصہ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی میں بائیس لاکھ ایسے لوگ ہیں جن کے پاس پانچ لاکھ یورو سے زیادہ دولت ہے۔ اگر یہ سب لوگ دو سال تک ان کا تجویز کردہ ٹیکس ادا کریں تو ایک سو ارب یورو حکومت کو مل سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست پر دستخط کرنے والے ایک شخص پیٹر وولمر نے کہا ہے کہ انہیں ورثے میں بہت سا پیسہ ملا ہے جس کی انہیں ضرورت نہیں ہے۔
ان لوگوں نے بدھ کو برلن میں ایک مظاہرہ بھی کیا تھا جہاں انہوں نے یورو کے نوٹ ہوا میں اڑا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وولمر نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر بہت کم لوگ جمع ہوئے تھے۔



















