اگلے ہفتے بتائیں گے: ایران

ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے پاس افژودہ یورینیم کو مزید افژودگی کے لیے فرانس اور روس منتقل کرنے کی عالمی پیشکش پر اگلے ہفتے جواب دے گا۔
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادئی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کا جواب مثبت ہوگا۔ واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران پیشکش کو قبول کر لے گا۔
ادارے نے ایران کے یورینیم کو فرانس اور روس منتقل کرنے کی تجویز فرانس، اقوام متحدہ، روس اور امریکہ کے درمیان بات قیت کے بعد دی تھی۔ایران کو جمعہ تک اس پیشکش کا جواب دینا تھا۔
اقوام متحدہ کی طرف دی جانے والی تجویز پر امریکہ، روس اور فرانس نے رضامندی ظاہر کی تھی اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش کو کم کرنا تھا۔
آئی اے ای اے نے اپنے بیان کہا کہ ایران نے کہا ہے کہ وہ ان کی تجویز پر گہرائی سے اور مثبت جذبے سے غور کر رہا ہے لیکن اسے جواب دینے کے لیے آئندہ ہفتے کے وسط تک کا وقت چاہیے۔
البرادئی نے ایرن کی طرف سے مثبت جواب کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
اقوام متحدہ کی تجویز کے تحت ایران کو تہران میں جوہری ری ایکٹر کے لیے جوہری ایندھن میسر ہوگا لیکن وہ اس حد تک افژودہ نہیں ہوگا کہ اس بم بنایا جا سکے۔ایران پہلے ہی کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
دریں اثناء ایران کے سرکاری ٹی وی پر کہا گیا تھا کہ ایران اپنا یورینیم باہر بھیجنے کی بجائے تحقیقی مقاصد کے لیے یورینیم خریدنے کو ترجیح دے گا جیسا کہ تجویز کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آسٹریا میں بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل نے کہا ایران نے اگر تجویز مسترد کر دی تو یہ امریکہ، روس اور فرانس کے لیے مایوسی کا باعث ہوگا، ان کے لیے ایران کے ساتھ وسیع تر مذاکرات اور مشکل ہو جائیں گے اور ایران کے خلاف عالمی پابندیوں کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔



















