’توہین آمیز کارٹون کی اشاعت پر رنج‘

ڈیوڈ کول مین ہیڈلی اور تہور حسین رانا دونوں شکاگو میں رہتے ہیں
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ کول مین ہیڈلی اور تہور حسین رانا دونوں شکاگو میں رہتے ہیں
وقت اشاعت

امریکی ریاست شکاگو سے تعلق رکھنے والے دو افراد پر بیرونِ ملک حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ملزمان جن اہداف پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ان میں ڈنمارک کے اس اخبار کا دفتر بھی شامل ہے جس میں مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی کارٹون شائع ہوئے تھے۔

انچاس سالہ ڈیوڈ کول مین ہیڈلی اور اڑتالیس سالہ تہاور حسین رانا کو اسی ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکہ میں استغاثہ کے وکلاء کے مطابق مسٹر ہیڈلی نے جِلینڈز پوسٹن اخبار کے دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں دو مرتبہ ڈنمارک کا دورہ کیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق انہیں اخبار میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد کے کارٹونوں کی اشاعت پر بہت رنج تھا۔

سن دو ہزار چھ میں ان کارٹونوں کے اشاعت کے بعد کئی ملکوں میں مسلمانوں نے پرتشدد احتجاج کیا تھا۔

اپنے ایک بیان میں امریکی وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ شکاگو سے تعلق رکھنے والے ان دو افراد کی گرفتاری سے بیرون ملک اہداف پر حملوں کے ایک سنگین منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔ بیان کے مطابق دونوں اشخاص پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

مسٹر ہیڈلی کو جنہوں نے سن دو ہزار چھ میں اپنا نام تبدیل کر کے داؤد گیلانی رکھ لیا تھا تین اکتوبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پاکستان جانے کے لیے تیار تھے۔ انہیں امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی اور ڈنمارک کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروس کی مشترکہ تحقیقات کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا۔

فردِ جرم کے مطابق مسٹر ہیڈلی نے پاکستان کا دورہ کیا اور وہاں اسلامی شدت پسند گروپ لشکرِ طیبہ کے ارکان سے ملاقات کی اور حرکت الجہاد اسلامی کے ساتھ رابطہ کیا۔

مسٹر تہور حسین رانا کا آبائی وطن پاکستان ہے لیکن وہ کینیڈا کے شہری ہیں۔ انہیں اٹھارہ اکتوبر کو شکاگو میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے میں ہیڈلی کی مدد کی تھی۔ اگر ان کے خلاف یہ الزام ثابت ہو گیا تو انہیں پندرہ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔